لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات جاری ہے... واشنگٹن نے انھیں تاریخی قرار دیا ہے

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن ایسا جامع معاہدہ چاہتا ہے جو لبنان کی خود مختاری بحال کرے اور اسرائیل کی سکیورٹی یقینی بنائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کو "تاریخی" قرار دیتے ہوئے اسے آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ایسا جامع معاہدہ چاہتا ہے جو لبنان کی خود مختاری کو بحال کرے اور اسرائیل کی سکیورٹی کو یقینی بنائے۔

یہ امریکی بیان واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ہیڈکوارٹر میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان منگل کو ہونے والی پہلے دن کی بات چیت کے اختتام پر سامنے آیا ہے، جبکہ یہ سلسلہ آج بدھ کو دوبارہ شروع ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک جامع معاہدے کی جانب پیش رفت اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی و سکیورٹی دونوں محاذوں پر جاری پیش رفت کو سراہا ہے۔

دوسری جانب لبنان میں متعین امریکی سفیر میشیل عیسیٰ نے کہا کہ مذاکرات میں امید کی فضا غالب ہے اور وہ بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بیروت اور جنوبی مضافات کو ہدف نہ بنانے کے بدلے میں اسرائیلی بستیوں کو ہدف نہ بنانے کا معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔

بیروت اور اس کے مضافات میں محتاط کشیدگی کے باوجود جنوبی لبنان میں لڑائی اور جھڑپیں جاری ہیں، جہاں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے عریض دبین میں ایک بڑا دھماکہ کیا ہے۔

ادھر حزب اللہ تنظیم نے اعلان کیا کہ اس نے جنوبی لبنان کے قصبے البیاضہ میں اسرائیلی فوج کے ایک ہیڈکوارٹر کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

واشنگٹن میں مذاکرات کے ساتھ ساتھ اور فضائی حملوں اور ضربوں کے زیر اثر، ایک سے زائد محاذوں پر فوجی پیش قدمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

جہاں تک اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں متعین کردہ "یلو زون" کا تعلق ہے تو اس میں 55 قصبے اور مقامات شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر صور، بنت جبیل اور مرجعیون کے اضلاع میں واقع ہیں۔ یہ علاقہ 10 سے 12 کلومیٹر کی گہرائی تک پھیلا ہوا ہے، یعنی لبنان کی سرحدوں کا تقریباً 6 فی صد حصہ ... یہ ساحلی علاقے البیاضہ سے شروع ہوتا ہے جو شہر صور سے 12 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور نبطیہ ضلع میں قلعہ شقیف تک جاتا ہے۔

اسرائیلی افواج دریائے لیطانی کی حدود کو عبور کر کے دیر سریان تک 4 کلومیٹر اندر تک پہنچ گئی ہیں۔ اسی طرح انہوں نے زوطر الشرقیہ کے علاقے کی جانب بھی توسیع کی ہے اور قصبہ ارنون اور یحمر الشقیف کے قرب و جوار میں قلعہ شقیف پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو لیطانی کے شمالی اور مغربی کناروں پر واقع ہیں۔

اس وقت اسرائیلی فوج جنوب میں 6 تزویراتی پہاڑیوں پر قابض ہے، جن میں سب سے نمایاں دریائے لیطانی کے شمال میں واقع قلعہ شقیف، تلہ الحمامص، اور علما الشعب اور ناقورہ کے قریب تلہ اللبونہ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size