لیبی پولیس اہلکار اپنی گریجوایشن تقریب کے دوران مہارتوں کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
لیبیا:پارلیمان کے مینڈیٹ کی مدت ختم،کشیدگی بدستور برقرار
مسلح جنگجوؤں کا طرابلس میں فوجی ہیڈکوارٹرز پر حملہ ،اسلحہ چراکرلے گئے
لیبیا کی عبوری پارلیمان کے مینڈیٹ کی مدت ختم ہوگئی ہے جبکہ ملک میں مسلح جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور نامعلوم مسلح افراد نے طرابلس میں فوج کے ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا ہے۔
لیبیا کی عبوری پارلیمان کی مدت سات فروری تک تھی لیکن اس کے باوجود گذشتہ سوموار کو اس نے اس مدت میں توسیع کر لی تھی تاکہ خصوصی کمیٹی آئین کی تدوین کا کام مکمل کر لے۔
درایں اثناء مشرقی شہر بن غازی میں ایک سیاسی کارکن بم دھماکے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگیا ہے۔بم اس کی کار میں چھپایا گیا تھا۔فوری طور پر کسی گروپ نے عبداللہ غریانی پر حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔اس کارکن کا تعلق اس گروپ سے ہے جو ملک میں قبل ازوقت انتخابات کرانے کا مطالبہ کررہا ہے۔
قبل ازیں جمعرات کو طرابلس میں نامعلوم مسلح افراد لیبی آرمی کے کمان ہیڈکوارٹرز پر دھاوے بولنے کی کوشش کی جس کے بعد ان کی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ایک فوجی ترجمان علی الشیخی نے کہا ہے کہ حملہ آوروں نے فوجی ہیڈکوارٹرز میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن وہ فوج کی مزاحمت کے بعد وہاں سے چلے گئے ہیں۔
اس حملے کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ایک فوجی ذریعے کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں اور جنگجوؤں کے درمیان کمانڈ عمارت کے گیٹ کے نزدیک لڑائی ہوئی ہے اور مسلح حملہ آور چند ایک کلاشنکوف رائفلیں اور کم سے کم چار کاریں چوری کرکے لے گئے ہیں۔ایک اور فوجی ذریعے نے واقعہ کو عمارت کے محافظوں کے درمیان لڑائی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں سابق صدر معمرقذافی کی حکومت کے مسلح عوامی بغاوت کے نتیجے میں خاتمے کے بعد سے بدامنی اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔طرابلس اور دوسرے شہروں میں مسلح جنگجو دندناتے پھررہے ہیں۔وہ کسی حکومتی ادارے کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وہ از خود ہی کارروائیاں کرتے ہیں اور حکومت کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔
طرابلس سمیت لیبیا کا تمام چھوٹے بڑے مشرقی شہر قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لاقانونیت کا شکار ہیں۔مسلح جنگجو لیبیا کی سکیورٹی فورسز ،غیرملکیوں ،ججوں ،سیاسی کارکنان اور میڈیا کے نمائندوں کو آئے دن اپنے حملوں میں نشانہ بنارہے ہیں۔
اسی بارے میں
-
لیبیا: وزیر داخلہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے -
مقتول معمر قذافی کے ''جنسی عقوبت خانے'' کا انکشاف -
لیبیا: پانچ سفاتکار رہا، مصر ابو عبیدہ کو رہا کرے گا -
لیبیا: وزارتِ عُظمیٰ کی خاتون امیدوار آمال الحاج کا 'العربیہ' کوپہلا انٹرویو -
لیبیا میں روکے چار امریکی فوجی رہا کر دیئے گئے -
لیبیا: مظاہرین نے مرکزی بنک کا داخلی راستہ اور بندرگاہ بند کر دی