لیبیا: وزارتِ عُظمیٰ کی خاتون امیدوار آمال الحاج کا 'العربیہ' کوپہلا انٹرویو

آمال عرب دنیا میں 1300 سال بعد اس عہدے کی امیدوار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

لیبیا میں چارعشروں تک ملک کے سیاہ وسفید کے مالک رہنے والے کرنل قذافی کے استبدادی دور کے خاتمے کے بعد ملکی سیاست میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ مقتول مرد آہن معمر قذافی کے بعد اگرچہ لیبیا اندرونی طور پر سیاسی افراتفری کا بھی شکار ہے اور انقلابی ابھی تک ملک کو استحکام عطا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ البتہ انقلاب کے ثمرات میں سے خواتین کی آزادی بھی اہم ثمر قرار دی جا رہی ہے۔ یہ انقلاب ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ایک خاتون لیبیا جیسے قدامت پسند معاشرے میں وزارت عظمیٰ کی امیدوار ہیں۔

وزارت عظمیٰ کے لیے امیدیں لگانے والی یہ 'جری' خاتون "آمال عبداللہ الحاج" المعرف "المیمی" کے نام سے کچھ عرصے سے لیبیا کے سیاسی اور ابلاغی و سماجی حلقوں میں زیربحث ہیں۔ پینتالیس سالہ آمال الحاج کا آبائی شہر طرابلس ہے۔ انہوں نے ایک ہفتہ قبل وزیر اعظم علی زیدان کی جانب سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنے کا اشارہ دینے کے بعد خود کونئے وزیر اعظم کے منصب کے لیے پیش کیا ہے۔ پچھلے ہفتے وزیر اعظم زیدان نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ "وزارت عظمیٰ پر میری کوئی اجارہ داری نہیں۔ ریاست کا کوئی بھی باشندہ اس عہدے کا امیدوار بن سکتا ہے"۔ وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد آمال الحاج نے جنرل نیشنل کانگریس [پارلیمنٹ] کے اسپیکر نوری ابو سہمین کے نام ایک مکتوب میں خود کو باضابطہ طورپر وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے پیش کیا ہے۔ وزارت عظمٰی کے لیے اب تک ان کے متوقع حریف ایک دوسرے رُکن پارلیمنٹ عبدالباسط اقطیط ہیں۔ اقطیط پیشے کے اعتبار سے ایک تاجرہیں جبکہ آمال الحاج ایک سوشل ورکر کے طور پر رہا ہے۔

وزارتِ عُظمٰی کے منصب کے لیے خود کو پیش کرنے والی آمال الطاھرالحاج نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو پہلا تفصیلی انٹرویو دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم علی زیدان نے عدم استحکام سے دوچار ملک کو مزید بحران میں دھکیلا ہے۔ وہ ملک میں امن کے قیام اور بدعنوانی کے خاتمے میں ناکام رہے ہیں۔اعتدال پسند مذہبی جماعت اخوان المسلمون اور محمود جبریل کی زیر قیادت نیشنل الائنس نے علی زیدان پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے، جس کے بعد سیاسی بحران کا کوئی درمیانہ حل ہی ملک کو بحران سے نکال سکتا ہے۔ میرے خیال میں پارلیمنٹ کے لیے درمیانہ راستہ یہی ہے کہ وہ مجھے وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے قبول کر لے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبی پارلیمنٹ میں گذشتہ ہفتے وزیر اعظم کےخلاف پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریک اگرچہ کامیاب نہیں ہوئی تاہم پارلیمنٹ کے اہم دھڑوں نے تحریک کی حمایت کی تھی۔ اب تحریک عدم اعتماد پرفیصلہ آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

جہاں تک خاتون امیدوار آمال الطاھرالحاج کا تعلق ہے توعوام کے سامنےان کا تعارف ایک سماجی رہ نما کے طور پر رہا ہے۔ مسز الحاج" فری کمیونیکیشن سوسائٹی" نامی ایک تنظیم کی تین سال سے چیئرپرسن ہیں۔ انہوں نے حقوق نسواں کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہی خدمات کی بدولت انہیں"حقوق نسواں کی مجاہدہ" کہا جاتا ہے۔ یہی خدمات ان کے تعارف کا اہم حصہ ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ان سے پوچھا کہ 1300 سال بعد کسی عرب ملک میں خلاف روایت خود کو وزارت عظمیٰ جیسے منصب کے لیے پیش کرتے ہوئے انہیں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوئی توان کا جواب تھا کہ"میں عورتوں کے حقوق کے لیے جہاد کرنے میں عوام میں شہرت رکھتی ہوں۔ مجھے امید ہے کہ لیبیا کے عوام مجھے وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے بخوشی قبول کر لیں گے"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے آمال الحاج نے کہا کہ بہ حیثیت خاتون وزات عظمیٰ کا امیدوار بننے میں ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنھبالنے کے بعد میں کسی عرب اور غیرعرب سربراہ مملکت کے ساتھ ملاقات میں کوئی عار محسوس نہیں کروں گی۔ میری کسی دوسرے ملک کے وزیراعظم یا اہم شخصیت کے ساتھ تنہائی میں ملاقات تھوڑی ہونی ہے۔ میں معمول کے مطابق گھرسے باہر حجاب میں نکلتی ہوں، تاہم میں یہ اعتراف بھی کرتی ہوں کہ بسا اوقات میں پتلون اور اس کےاوپر ایک لمبا چغہ بھی زیب تن کر لیتی ہوں جومیرے جسم کو مکمل ڈھانپ لیتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرا خاندانی پس منظرمذہبی ہے۔ میں خود بھی صوم وصلواۃ کی پابند ہوں۔ دو مرتبہ عمرہ کی سعادت حاصل کر رکھی ہے میرے آباؤ اجداد میں ایک بزرگ عالم دین اور لیبیا کے دو قبائل کی سردار رہ چکے ہیں۔ خود میرے والد (مرحوم) بھی ایک قبیلے کے سردار تھے۔

آمال الحاج نے بتایا کہ اس کی والدہ فاطمہ الھادی ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ہیں۔ مقتول کرنل قذافی کے خلاف عوامی بغاوت سے قبل وہ لیبیا۔ اٹلی کی ایڈوانس ٹیکنیکل فرم میں اہم عہدے پر کام بھی کرچکی ہیں تاہم کرنل قذافی کےخلاف عوامی بغاوت کے بعد انہوں نے کمپنی کی ملازمت ترک کرکے خود کو فلاحی کاموں کے لیے وقف کردیا تھا۔

خاندان کی کفالت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آمال کا کہنا تھا کہ ہم دو بہنیں اور پانچ بھائی ایک خاندان کا حصہ ہیں۔ ایک بھائی امریکا میں مقیم ہیں۔ دو لیبیا میں انجینیئرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ایک بھائی اکاؤنٹنٹ اور ایک آڈیٹر ہے۔ چھوٹی ہمیشرہ بھی اکاؤنٹنٹ ہیں۔ ہمارے والد مرحوم ترکے میں ایک بڑی جائیداد چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ ہمیں اس جائیداد میں سے بھی وافر حصہ ملا ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا جیسے قدامت پسند اور قبائلی سماجی ڈھانچہ رکھنے والے ملک میں کسی خاتون کا وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے امیدوار بننا کسی قدر حیرت کی بات ہے۔ آمال نہ صرف لیبیا بلکہ پوری عرب دنیا میں 1300 سال بعد اس عہدے کے لیے امیدوار بنی ہیں۔

مشہور مؤرخ علامہ ابن خلدون کے مطابق 1300 سال پہلے لیبیا میں "دیھیا" نامی ایک خاتون جو "کاہنہ" کے لقب سے مشہور تھی حکمران تھی۔ ابن خلدون نے "ادیھیا" کا تذکرہ اپنی شہرہ آفاق کتاب"العبر" میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ "دیھیا" ایک جنگجو خاتون حکمران تھی جو اپنے آباؤ اجداد کی سلطنت کےدفاع کے لیے خود بھی گھوڑے پر مسلح گشت کرتی رہتی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں