مقتول معمر قذافی کے ''جنسی عقوبت خانے'' کا انکشاف

لیبیا کے سابق صدر لڑکوں اور لڑکیوں دونوں سے دل بہلایا کرتے تھے:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

لیبیا کے سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے بارے میں وقفے وقفے سے مغربی میڈیا نت نئے انکشافات کر رہا ہے اور ان کے دیومالائی جنسی قصے بیان کر رہا ہے۔ برطانیہ میں بنی ایک نئی دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ معمر قذافی نے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنے محلات میں جنسی غلام بنا کر رکھا ہوا تھا۔

''پاگل کتا۔۔۔۔۔۔قذافی کی خفیہ دنیا''(میڈ ڈاگ ۔۔۔۔۔۔قذافی ز سیکرٹ ورلڈ) کے عنوان سے یہ دستاویزی فلم بی بی سی نے تیار کی ہے۔ اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کرنل قذافی اسکولوں اور جامعات کے دوروں کے موقع پر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا انتخاب کیا کرتے تھے۔ ان کے محافظ ان کو جامعہ طرابلس ہی میں ایک خفیہ جگہ یا ان کے کسی محل میں اٹھا کر لے جایا کرتے تھے۔

ان خفیہ عقوبت خانوں میں آمد کے بعد ان لڑکے اور لڑکیوں کو عریاں اخلاق باختہ فلمیں دیکھنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور پھر لیبیا کے سابق مرد آہن ان سے اپنی جنسی تسکین کیا کرتے تھے۔البتہ اس عمل سے قبل ان مفعولوں کا مکمل طبی معائنہ کیا جاتا تھا کہ وہ کسی جنسی بیماری میں تو مبتلا نہیں ہیں۔

دستاویزی فلم میں ایک عورت اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر قذافی کے ساتھ اپنے تعلق کا قصہ بیان کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اس کو قذافی کے خفیہ حرم سرا میں لے جایا گیا اور وہاں انھوں نے اپنی خاتون فوجیوں سے کہا کہ اس کو تیار کرو۔اس عورت کا کہنا تھا کہ قذافی نے سات سال کے عرصے میں کئی مرتبہ اس کی عصمت ریزی کی۔ پھر ایک روز وہ حادثاتی طور اس جنسی عقوبت خانے سے بھاگ جانے میں کامیاب ہو گئی کیونکہ اس کا دروازہ کھلا رہ گیا تھا۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل میں اس دستاویزی فلم سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس عورت کا کہنا تھا کہ ''میں قذافی سے پہلی ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتی۔اس نے میری روح اور جسم کو چاقو کی دھار سے تار تار کر دیا تھا''۔

کرنل قذافی کے ایک سابق معاون نور المسمری نے فلم میں بتایا کہ مقتول صدر خوفناک حد تک جنسی بے راہ روی کا شکار تھے۔ نوری چالیس سال تک لیبیا کے سابق صدر کے چیف آف پروٹوکول رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''قذافی کے اپنے لڑکے تھے۔ انھیں ''سروسزگروپ'' کا نام دیا جاتا تھا۔ یہ تمام لڑکے اور محافظ تھے۔ وہ ان کے لیے جنسی تسکین کا سامان کرتے تھے''۔

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ قذافی کے مخالفین کی لاشیں فریزر میں ان کے ملاحظے کے لیے رکھی رہتی تھیں۔ لیبیا کے سابق وزیرخارجہ اور اقوام متحدہ میں سفیر کی اہلیہ بہیا کخیا نے بتایا کہ جب ان کے خاوند لاپتا ہو گئے اور ان کی قذافی سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ان کے خاوند زندہ ہیں لیکن جب 2011ء میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں قذافی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا توان کے خاوند کی لاش ایک فریزر سے برآمد ہوئی تھی۔

اس خاتون کا کہنا تھا کہ مقتول کرنل قذافی اپنے مخالفین کی لاشوں کو ریفریجریٹرز میں پچیس پچیس سال تک رکھتے رہے تھے اور وہ انھیں چھو کر اپنے اقتدار کا نشہ دوبالا کیا کرتے تھے۔

واضح رہے کہ اگست 2013ء میں فرانسیسی صحافی اینک کوجین کی کتاب ''قذافی کے حرم:ایک نوجوان دوشیزہ کی کہانی اور لیبیا میں اقتدار کا غلط استعمال'' منظرعام پر آئی تھی ۔اس کتاب میں لیبیا کے مقتول صدر کے اسکول کی طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کو بے نقاب کیا گیا تھا۔

اس کتاب میں بھی قذافی کے رنگین قصے بیان کیے گئے ہیں۔اس میں ایک متاثرہ لڑکی ثریا کی یہ کہانی بیان کی گئی ہے کہ اس کو مبینہ طور پر پندرہ سال کی عمر میں اغوا کر لیا گیا تھا اور اس کو دارالحکومت طرابلس کے نواح میں قذافی کے ایک قلعے کے تہ خانے میں پانچ سال تک قید رکھا گیا تھا۔کتاب میں اس خاتون کا عرفی نام رکھا گیا ہے تاکہ اس کی شناخت ظاہر نہ ہو۔ ا

س خاتون کا کہنا ہے کہ ''اس کی وحشیانہ انداز میں آبروریزی کی جاتی تھی۔اس کو قریباً روزانہ ہی مارا پیٹا جاتا اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا''۔اس کے بہ قول ''اس نے دوسری لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوتے ہوئے دیکھا تھا''

کوجین کا کہنا ہے کہ قذافی کو ہمیشہ حصار میں لیے رکھنے والی ان کی مشہور زمانہ خواتین باڈی گارڈز دراصل ان کی داشتائیں تھیں۔ثریا کو اسکول میں دوران تعلیم ایک مرتبہ قذافی کو 2004ء میں گلدستہ پیش کرنے کا ''اعزاز'' حاصل ہوا تھا۔قذافی نے مبینہ طور پر پھول وصول کرنے کے بعد ثریا کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔ان کے معاونین کے لیے یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ اس لڑکی کو چاہتے ہیں۔

ثریا کو طرابلس کے نزدیک واقع قذافی کے محل میں طلب کیا گیا تھا اور انھوں نے مبینہ طور پر اس لڑکی کے ساتھ اپنی ہوس پوری کرنے کی کوشش کی تھی۔کوجین نے اس خاتون کا یہ بیان کتاب میں نقل کیا ہے:''انھوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑ لیا اور مجھے مجبور کیا کہ میں بستر پر ان کے ساتھ بیٹھوں لیکن مجھ میں ان کی طرف دیکھنے کی جرآت نہیں تھی''۔

واضح رہے کہ مسلم ممالک کے مغرب کے ناپسندیدہ حکمرانوں کے خلاف اس طرح کے سنگین الزامات بالعموم ان کے مرنے یا اقتدار سے رخصتی کے بعد ہی لگائے جاتے ہیں اور مغربی صحافی بے نامی ذرائع کے حوالے سے اس طرح کی رنگین داستانیں بیان کرتے رہتے ہیں لیکن ان کو کبھی کسی عدالت میں ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ لیبیا کے کسی بےباک صحافی نے مقتول مطلق العنان صدر معمر قذافی کے اس طرح کے قصے ابھی تک بیان نہیں کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں