ڈونلڈ ٹرمپ 22 جولائی کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں (رائٹرز)
ٹرمپ کا جاپان کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پانے کا اعلان
امریکی صدر نے اشارہ دیا ہے کہ طے پانے والے معاہدے کے تحت جاپان ان کی ہدایت پر، امریکا میں 550 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور امریکا کو منافع کا 90 فی صد حاصل ہو گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق امریکا اور جاپان کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے میں خاص طور پر جاپانی مصنوعات پر 15 فی صد امریکی کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کی شق شامل ہے۔
ٹرمپ نے آج اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا "ہم نے ابھی جاپان کے ساتھ ایک بہت بڑا معاہدہ کیا ہے، شاید یہ تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ ہو۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "اس معاہدے کے تحت جاپان میری ہدایت پر، امریکا میں 550 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، جس سے امریکا کو 90 فی صد منافع حاصل ہو گا۔"
"متبادل 15 فیصد ڈیوٹی"
اگرچہ ریپبلکن صدر نے اس معاہدے کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں، مگر انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ معاہدہ "لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔"
ٹرمپ نے یہ بھی کہا "شاید اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جاپان اپنی منڈی کو تجارت کے لیے کھولے گا، جس میں گاڑیاں، ٹرک، چاول اور دیگر زرعی مصنوعات شامل ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "جاپان امریکا کو 15 فی صد کسٹم ڈیوٹی بھی ادا کرے گا، جو دو طرفہ ہو گی۔"
معاہدے کی تفصیلات کا جائزہ
دوسری طرف جاپانی وزیر اعظم شیگیریو ایشیبا نے اعلان کیا کہ وہ اس تجارتی معاہدے کی تفصیلات کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کریں گے۔
ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایشیبا نے کہا "مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے میں تبصرہ تب ہی کر سکتا ہوں جب میں معاہدے کی تفصیلات کا بغور جائزہ لے لوں۔"
انہوں نے مزید کہا "بطور حکومت ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ قومی مفادات کے تحفظ میں معاون ہوگا۔"
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے حالیہ ہفتوں میں فلپائن، انڈونیشیا، برطانیہ، اور ویتنام کے ساتھ بھی تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ یہ بات فرانس پریس نیوز ایجنسی نے بتائی۔
واضح رہے کہ اس پیش رفت سے قبل جاپانی وزیر اعظم ایشیبا کو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مشکل انتخابات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ان کا اتحاد سینیٹ میں اکثریت سے محروم ہو گیا۔