ٹرمپ نے اوباما کے خلاف غداری کا الزام لگا دیا، کارروائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیش رو امریکی صدر بارا اوباما پر ملک سے غداری کا الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اوباما کے خلاف باقاعدہ طور پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ مطالبہ منگل کے روز سامنے آیا ہے۔

انہوں نے یہ الزام اس رپورٹ کی بنیاد پر لگایا ہے جس میں ڈیمو کریٹ امریکی انتظامیہ کے دور میں اس معلومات پرمبنی رپورٹ میں ادل بدل کیا گیا تھا جو 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق تھی۔

امریکہ میں ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گیبرڈ نے محکمہ انصاف کو ایک ایسا کریمنل ریفرنس ارسال کیا ہے جس میں سابق صدر اوباما پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اس غدارانہ سازش کا حصہ رہے تھے۔ جس کے تحت روس بارے رپورٹ میں تبدیلی کی گئی۔

ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جینس کا دعوی ہے کہ اوباما اور ان کی ٹیم نے روس سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹ کی ساخت بدلنے کی کوشش کی تھی۔ یہ صدر ٹرمپ کے خلاف کیا گیا۔

واضح رہے یہ رپورٹ 2019 اور 2023 کے درمیان چار مختلف مجرمانہ نوعیت کی کاؤنٹر انٹیلی جنس اور واچ ڈاگ تحقیقات میں جمع کیے گئے شواہد کو سامنے لاتی ہے۔ ان سب شواہد سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ روس نے 2016 کے انتخابات میں ٹرمپ کی جانب سے مداخلت کی تھی۔

اس سلسلے میں ریپبلکن رہنما سے پوچھا گیا کہ امریکی دورے پر آئے ہوئے فلپائنی صدر فرڈینینڈ مارکوس کے ساتھ اوول آفس کی ایک پریس کانفرنس کے دوران محکمہ کو اس رپورٹ پر کس کو نشانہ بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا میں نے جو پڑھا اس کی بنیاد پر اور جو کچھ اب پڑھا گیا ہے ہے اس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے یہ صدر اوباما ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے ہی اس کی شروعات کی تھییں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں پیر کے روز مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کردہ اوباما کی گرفتاری کی ویڈیو بنا کر شیئر کرنے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اوباما کے ان کے نائب صدر جوبائیڈن، ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی، نیشنل انٹیلی جنس کے سابق ڈائریکٹر جیمز کلیپر اور سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برینن کو بھی سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔لیکن انہوں اس گینگ کا سربراہ اوباما کو ہی قرار دیا ہے۔ جس نے ان پر غداری کا الزام لگایا تھا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جب سے ان کا آغاز ہوا تھا کہ 2016 کے انتخابات میں روسی مداخلت کی مختلف تحقیقات اور انہیں تحقیقات میں شامل کرنے کی مہم ایک دھوکہ تھی۔

یاد رہے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی نگرانی موجودہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں