ٹرمپ کی سابقہ وکیل کا بطور وفاقی پراسیکیوٹر مستقبل غیر یقینی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ماضی میں وکیل رہنے والی خاتون علینا حبہ جو اپنے لڑے گئے مقدمات کی وجہ سے ملک کی بڑی اور نامور وکیل مانی جاتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں 120 روز کے لیے نیو جرسی کی اعلیٰ پراسیکیوٹر کے طور پر آزمائش سے گزر سکتی ہیں۔

اکتالیس سالہ علینا حبہ پراسیکیوٹر کی عبوری مدت کے خاتمے کے بعد ایک وفاقی جج کے طور پر برقرار رہ سکتی ہیں۔

ان کی اس مدت کار کے دوران کئی ہائی پروفائل کیسز آتے رہے ہیں۔ ان کیسز میں نیویارک کے میئر راس برکا کا مقدمہ بھی شامل رہا۔ جو بالآخر ختم کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں بھی کئی کیسز اس وقت جاری ہیں۔ ان کیسز میں کئی ڈیموکریٹس کے خلاف ہیں۔
علاوہ ازیں امیگریشن کے سلسلے میں زیر حراست لیے گئے افراد سے متعلق مقدمات کو بھی وہ ڈیل کر رہی ہیں کہ نیویارک ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔

اس سلسلے میں علینا حبہ، محکمہ انصاف اور ریاست میں چیف فیڈرل جج کے دفاتر سے بھی اس بارے میں تبصرے کی درخواست کی گئی۔ لیکن کہا گیا کہ اس بارے میں ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔

واضح رہے صدر ٹرمپ نے حبہ کو سینیٹ کی منظوری سے اس عہدے کے لیے نامزد کیا۔ لیکن ریاست کے دو ڈیموکریٹ سینیٹروں کوری بکر اور اینڈی کم نے ان کی مخالفت کا اشارہ دیا ہے۔ ریاستی سینیٹرز سے بھی منظوری لازمی ہوتی ہے۔ جسے بشکریہ سینیٹری کہا جاتا ہے۔ لیکن ریاستی سینیٹر نہ چاہیں تو نامزدگی رک بھی سکتی ہے۔ اس کا سامنا علینا حبہ کو بھی ہو سکتا ہے۔

ٹاپ پراسیکیوٹر کی مدت کار

حبہ کے اس اعلیٰ ترین عہدے کے دوران کانگریس کے تین ڈیمو کریٹس کے کیسز اہم ترین کیسز کا آغاز اس وقت ہوا جب باراکا نے نیویارک میں ڈیلٹی ہال میں قائم امیگریشن کے حراستی سنٹر کا دورہ کیا۔

باراکا کو اس دورے کے بعد گرفتار بھی کیا گیا۔ لیکن باراکا نے صاف کہہ دیا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ بعد ازاں حبہ نے اس الزام کو ختم کر دیا۔

اگرچہ امریکی مجسٹریٹ جج نے بھی حبہ کے دفتر کی سرزنش کی کہ یہ گرفتاری جلد بازی میں کی گئی تھی۔ جو ایک تشویشناک اقدام تھا۔ حبہ نے بعد ازاں ایک نئے شہری نمائندے میک آئیور کو حملے کے الزامات کی زد پر لیا۔ میک آئیور پہلی بار منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے باراکا کی گرفتاری پر قانون نافذ کرنے والوں کو جسمانی طور پر روکا تھا۔ جسے حملہ قرار دیا گیا۔

میک آئیور پر یہ فرد جرم بھی سیاسی نوعیت کی قرار دی گئی۔ جو درحقیقت امیگریشن کی ٹرمپ پالیسی کے سلسلے میں ہی ایک کوشش تھی۔ یوں نیوجرسی کے بڑے شہر میں ڈیموکریٹ عہدے داروں کو بار بار عدالتوں کے چکر لگاتے دیکھا گیا یے۔
اپنے اس پس منظر کے باعث علینا حبہ کو ریاستی سینیٹرز کی طرف سے توثیق ملنے کا مرحلہ کافی چیلنج کے ساتھ ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں