وزير الخارجية الإيراني عباس عراقجي (أرشيفية- فرانس برس)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ روز (بدھ کو) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کے بعد اس تصدیق کے باوجود کہ وہ ایران کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل پر کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی میڈیا پر ایران کے بارے میں سنسنی خیز دعوے کرنے کا الزام عائد کیا ہے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو ناکام بنایا جا سکے۔
عراقچی نے گذشتہ رات گئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں لکھا "جب بھی مریم ایڈلسن سے وابستہ میڈیا ایران کے بارے میں سنسنی خیز دعوے پھیلاتا ہے، تو ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ یہ کس کے مفادات کی خدمت کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی صدر نے بھی ان کی بنیادی وفاداریوں کا اعتراف کیا ہے۔"
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کے وائٹ ہاؤس کے دورے سے ایک گھنٹہ پہلے "Israel Hayom" نے یہ خبر شائع کی کہ ایران نے "ڈونلڈ ٹرمپ کو دھوکا دیا"، جس کا بالواسطہ اشارہ یہ تھا کہ تہران نے امریکی صدر کو کوئی دھوکا نہیں دیا۔
عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ مظاہروں میں شریک کسی بھی شخص کو سزائے موت نہیں دی گئی اور نہ کوئی عدالتی کارروائی مکمل ہوئی ہے، بلکہ دو ہزار سے زائد قیدیوں کو معافی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اسرائیل مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے سے فائدہ اٹھاتا ہے اور انہوں نے "اصل گمراہ کرنے والے" کو تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
گذشتہ منگل کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے دو ہزار سے زائد سزا یافتہ افراد کی معافی یا سزا میں کمی کا اعلان کیا تھا۔ عدلیہ کے مطابق اس فہرست میں حالیہ احتجاجی مظاہروں میں شریک کوئی بھی شخص شامل نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں گذشتہ دسمبر کے آخر میں مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا جو جلد ہی ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گیا اور 8 اور 9 جنوری کو اپنے عروج پر پہنچ گیا۔
تہران نے اس بد امنی کے دوران تین ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے، جن میں سکیورٹی فورسز کے ارکان اور احتجاج میں شریک نہ ہونے والے راہ گیر بھی شامل ہیں۔ ایران نے اس تشدد کی وجہ ان "دہشت گردانہ کارروائیوں" کو قرار دیا جن کے پیچھے اسرائیل سمیت غیر ملکی قوتوں کا ہاتھ ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ احتجاج پر امن طور پر شروع ہوا تھا لیکن بعد میں بیرونی اشتعال انگیزی کے باعث "ہنگامہ آرائی" میں تبدیل ہو گیا جس میں قتل و غارت اور توڑ پھوڑ شامل تھی۔
اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر "مظاہرین کے خلاف تشدد اور سزائے موت کا سلسلہ نہ رکا" تو فوجی آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔