ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے ایک مشیر نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کی میزائل صلاحیت اس کی سرخ لکیر ہے اور اس پر گفتگو مذاکرات کا موضوع نہیں ہے۔ تہران اور واشنگٹن حالیہ کشیدگی اور تنازعات کو ٹالنے کے لیے مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے والے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے لیے خطرہ بننے والی علاقائی بحریہ کی تعیناتی کے درمیان امریکی اور ایرانی سفارت کاروں نے گذشتہ ہفتے عمان میں بالواسطہ بات چیت کی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق علی شمخانی نے اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ مارچ میں شرکت کرتے ہوئے کہا، "اسلامی جمہوریہ کی میزائل صلاحیتوں پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔"
واشنگٹن طویل عرصے سے ایران کی جوہری صلاحیتوں پر مذاکرات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس کا میزائل پروگرام بھی ان میں شامل کیا جائے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر بات کرنے کو تیار ہے لیکن اس نے ان مذاکرات میں میزائل سمیت دیگر معاملات شامل کرنے سے بارہا انکار کیا ہے۔
اتوار کو ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران کا میزائل پروگرام کبھی بھی مذاکرات کے ایجنڈے کا حصہ نہیں رہا۔
-
تہران پر دباؤ کی پالیسی ... واشنگٹن کا ایرانی بحری آئل ٹینکروں کی ضبطی پر غور
نیتن یاہو واشنگٹن پہنچ گئے ... ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات پر نظریں مرکوز
بين الاقوامى -
اسرائیلی صدر کا اظہارِ امید: امریکہ اسرائیل مذاکرات ایران کی 'بدی کی سلطنت' کمزور کر سکتے
آج امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کی ملاقات طے شدہ ہے
مشرق وسطی -
ضرورت سے زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کریں گے، ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام پر ...
مشرق وسطی