بنجمن نیتن یاھو کا واشنگٹن جانے کا کوئی پروگرام نہیں:ایوان وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے واشنگٹن جانے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی خبروں کے بعد نیتن یاھو کے دفتر نے ان اطلاعات کی تردید کر دی ہے۔

اسرائیلی چینل 14 کے مطابق وزیراعظم کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ کوئی ملاقات طے نہیں پائی ہے اور نہ ہی وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایسی کوئی دعوت موصول ہوئی ہے۔

مسلسل رابطے برقرار

دفتر کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان مسلسل رابطے ہیں اور وہ ہر ایک یا دو دن بعد بات چیت کرتے ہیں لیکن اب تک کسی ملاقات کا وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے۔

یہ تردید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو حتمی طور پر ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کی خاطر پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔ یاد رہے کہ آٹھ اپریل سنہ 2026ء کی صبح سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے جس میں توسیع کی گئی تھی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ملاقات کی تردید اس تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے کہ تل ابیب پس پردہ جنگ کو جاری رکھنے کو ترجیح دے رہا ہے تاکہ ایران کو اتنا نقصان پہنچایا جا سکے کہ وہ ان تمام شرائط کو ماننے پر مجبور ہو جائے جو اس کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود کرتی ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب یہ اطلاع ملی تھی کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنگ بندی کے لیے پاکستانی ثالث کو ایک نئی تجویز پیش کی تھی تاہم واشنگٹن نے اس پر اطمینان کا اظہار نہیں کیا تھا۔

توقع ہے کہ ایرانی جانب سے آئندہ چند روز کے اندر ایک ترمیمی تجویز پیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ بنجمن نیتن یاھو کا آخری دورہ واشنگٹن اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے سے قبل ہوا تھا۔ اس وقت دونوں رہنماؤں نے 11 فروری سنہ 2026ء کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی جس میں غزہ کی صورتحال اور ایرانی جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں