ایرانی نظام کے احتساب کے لیے انتہائی دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں : واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹومی بیگوٹ نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن ایرانی نظام کے احتساب اور اسے امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے تمام شعبوں میں زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال رہا ہے۔

انہوں نے آج بدھ کے روز "ایکس" پر وزارت خارجہ کی ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ امریکہ نے گذشتہ روز 35 اداروں اور افراد کے خلاف اقدامات کیے ہیں جو ایران کا خفیہ مالیاتی نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔

امریکی حکومت نے گذشتہ روز منگل کو ایران کے متوازی بینکنگ سسٹم میں کردار ادا کرنے پر 35 اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ساتھ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ پابندیوں سے بچنے اور ایران کی جانب سے دہشت گردی کی سرپرستی سے منسلک اربوں ڈالر کی منتقلی میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی امریکی وزارت خزانہ کے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے دفتر نے یہ انتباہ بھی جاری کیا کہ جو بھی کمپنی آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بدلے ایرانی حکومت یا ایرانی پاسداران انقلاب کو ٹرانزٹ فیس ادا کرے گی اسے بڑی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزارت نے کہا کہ منگل کو جن پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں ان نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے ایرانی مسلح افواج اور پاسداران انقلاب کو بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دی۔ اس طرح وہ تیل کی غیر قانونی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم وصول کر سکیں، میزائلوں اور دیگر اسلحہ ساز نظاموں کے حساس پرزے خرید سکیں اور ایران سے وابستہ گروہوں کو فنڈز منتقل کر سکیں۔

اسی طرح وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کا متوازی بینکنگ سسٹم اس کی مسلح افواج کے لیے ایک اہم مالیاتی شہ رگ ہے، کیونکہ یہ ایسی سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے جو عالمی تجارت میں رکاوٹ بنتی ہیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں تشدد کو ہوا دیتی ہیں۔

بیسنٹ نے مزید کہا کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کی جانے والی غیر قانونی رقوم ایرانی نظام کی جاری دہشت گردانہ کارروائیوں کی حمایت کرتی ہیں اور خطے میں امریکی افواج، اتحادیوں اور عالمی معیشت کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ کوئی بھی ادارہ جو ان نیٹ ورکس کے کام میں سہولت فراہم کرے گا یا ان کے ساتھ لین دین کرے گا اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ اپریل کے اوائل میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان طویل براہ راست مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تھا، تاہم اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور اپنے داماد جیرڈ کشنر کو گذشتہ ہفتے ہفتہ کے روز پاکستان جانے سے روک دیا تھا، جہاں ان کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کا امکان تھا، جو بظاہر حل کے لیے ایک نئی ایرانی تجویز لے کر آئے تھے۔ تاہم امریکی ذرائع نے بعد میں بتایا کہ ایران کی یہ تجویز ڈونلڈ ٹرمپ کو مطمئن نہیں کر سکی۔

اس کے علاوہ اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کو جمع کرنے کے لیے پاکستانی کوششیں جاری ہیں تاکہ مذاکرات کے دوسرے دور کو آگے بڑھایا جا سکے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان نقطہ نظر کو قریب لایا جائے تاکہ 28 فروری کو چھڑنے والی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں