آبنائے ہرمز ڈیجیٹل چوک پوائنٹ : ایران کی جنگ خطے میں فائبر آپٹک کیبل کے لیے بھی خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

ایران نے پچھلے ہفتے خبردار کیا ہے کہ زیر آب کیبل کے لیے آبنائے ہرمز میں خطرات ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ جنگ کی وجہ سے زیر آب کیبل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی فائبر آپٹک خطے کی ڈیجیٹل معیشت میں کلیدی کردار کی حامل ہے۔ اس لیے اگر اس پر کوئی حملہ ہوا تو خطے میں انٹرنیٹ سروسز اور انفراسٹرکچر پر حملہ ہوگا۔

جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز اپنی انتہائی کم چوڑائی کے باعث پہلے ہی جاری جنگ کے نتیجے میں ایک چوک پوائنٹ بن چکی ہے۔ جہاں سے تیل اور گیس سے متعلق نقل و حمل انتہائی کم ہو کر رہ گئی ہے۔ اب تیل و گیس کی ترسیل کے علاوہ اس آبنائے ہرمز سے فائبر آپٹک کی بچھی ہوئی کیبل کو بھی نقصان کا اندیشہ ہے۔ جس سے جڑے ہوئے خطے کے ممالک جن میں بھارت، جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ کے راستے خلیجی مملکتیں و مصر شامل ہیں، متاثر ہو سکتے ہیں۔

سمندر کی تہ میں موجود انٹرنیٹ کیبلز کی اہمیت

فائبر آپٹک یا الیکٹریکل کیبلز سمندر کے پانیوں کے نیچے انتہائی گہرائی میں بچھائی گئی ہوتی ہیں۔ ان بچھائی گئی کیبلز کے ذریعے آئی ٹی سے متعلق انفارمیشن اور ڈیٹا کی ٹرانسفر کا 99 فیصد کام ممکن ہوتا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سرگرمیوں سے متعلق ادارے نے ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ انہی کیبلز کے ذریعے سمندروں کے آر پار کے ملکوں کے لیے مواصلاتی رابطے ممکن ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ کئی ملکوں کے درمیان بجلی کی ٹرانسفر بھی ممکن بنائی جاتی ہے۔ یوں یہ بچھائی گئی کیبلز سمندروں کے آر پار ایک متحرک فعال معیشت کو تقویت دینے کا باعث بنتی ہیں۔

جیو پولیٹیکل انرجی تجزیہ کار ماشا کوتکین نے کہا اگر ان کیبلز کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک کمپنی سے اس کے صارفین تک پہنچنے والا ڈیٹا متاثر ہوگا یا کم از کم اس کی رفتار کم تر ہو جائے گی۔ جس سے معاشی سرگرمیوں کو بھی دھچکا پہنچے گا اور معاشی دھچکے کی یہ لہر تیل سے متعلق بحران کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ سے جڑی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی بحرانی کیفیت پیدا کر سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والی بڑی کیبلز سے ایشیا و افریقہ کو بھی جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کے علاوہ دیگر کئی ملکوں سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔ ان میں مصر، متحدہ عرب امارات، اومان، قطر، سعودی عرب بھی شامل ہیں۔ اسی طرح بھارت و سری لنکا کا خلیجی ملکوں کے ساتھ انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ سوڈان اور مصر کے ساتھ مواصلاتی تعلق سمندر میں بچھائی گئی فائبر آپٹک کے مرہون منت ہے۔ یوں یہ فائبر آپٹک کا انٹرنیشنل کیبل سسٹم آبنائے ہرمز کے توسط سے خلیج کے لیے ایک پل کا کام کرتا ہے۔ خلیجی ملکوں کے علاوہ ایران بھی اس نیٹ ورک سے مستفید ہوتا ہے۔

خطرات کیا ہیں؟

2014 اور 2025 کے دوران اس طویل تر سب میرین کیبلز میں اگرچہ خرابی کے کم واقعات دیکھنے کو رہے اور مجموعی طور پر استحکام رہا مگر خرابی کے 150 سے 200 واقعات کی سالانہ اوسط پھر بھی دیکھنے میں آئی۔ 'انٹرنیشنل کیبل پروٹیکشن کمیٹی' (آئی سی پی سی) کے مطابق ریاستوں کی طرف سے بھی ان کیبلز کو خطرات موجود رہے۔ لیکن 70 سے 80 فیصد خرابی کے واقعات انسانی غلطی سے پیش آنے والے حادثات کے سبب پیش آئے۔ اس میں ماہی گیری اور جہازوں کے لنگر انداز ہونے سے متعلق واقعات بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں زیر زمین زلزلوں کے واقعات سے بھی ان کیبلز کو نقصان پہنچتا رہا۔ ان واقعات کی تصدیق ٹیلی کام ریسرچ کمپنی 'ٹیلی گرافی' کے ڈائریکٹر ایلن مولڈین کی طرف سے بھی کی گئی ہے۔

ایران میں جاری جنگ جو دو مہینوں سے اب آگے بڑھ رہی ہے۔ اس دوران تیل کی منتقلی کے واقعات غیر معمولی طور پر پیش آئے ہیں۔ علاقے کی سطح پر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ بحرین میں ایمازون ویب سروسز ڈیٹا سنٹر کا نقصان ہوا ہے۔ البتہ متحدہ عرب امارات ابھی تک ان نقصانات سے محفوظ رہا ہے۔ تاہم ایک بالواسطہ خطرہ موجود ہے کہ کشتیوں سے کیبلز کو نقصان ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب فوجی آپریشنز جاری ہیں۔ تاہم ایک بالواسطہ خطرہ موجود ہے کہ کشتیوں کی وجہ سے ان کیبلز کو نقصان ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسی صورتحال میں کہ جب فوجی آپریشنز جاری ہیں اور فوجی کشتیاں اور جہاز بھی نقل و حرکت کر رہے ہیں۔

کوتکین نے کہا اس میں یہ امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ غیر شعوری طور پر ہونے والے واقعات سے بھی کیبلز کا نقصان بڑھ جائے۔ یہ جنگ جتنی طویل ہوگی یہ خدشہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا 2024 میں ایک ایسا واقعہ پہلے بھی پیش آچکا ہے جب ایران سے جڑے یمنی حوثیوں نے ایک تجارتی جہاز کو بحیرہ احمر میں نشانہ بنایا تو اس وقت بھی فائبر آپٹک کیبل کو نقصان پہنچا تھا، ایسے کسی نقصان کی سطح کو خلیجی ملکوں کے ان لوگوں کی تعداد کے اعتبار سے ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ فائبر آپٹک سے کتنی بڑی تعداد میں افراد استفادہ کرتے ہیں۔

کیبل کی اصلاح کرنا آسان نہیں

کسی بھی جنگی زون میں فائبر آپٹک کیبل کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنا یا ان کیبلز کی مرمت کرنا آسان نہیں ہے۔ بلکہ یہ بجائے خود ایک بڑا چیلنج ہے جو انتہائی پیچیدہ بھی ہے۔ جہازوں کے مالکان کی طرف سے مرمت کے فیصلے انشورنس کمپنیوں کے لیے بھی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسی طرح سمندر میں موجود بارودی سرنگیں بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔

عام طور پر کیبلز کی سمندر میں مرمت بہت بڑے مسائل سے منسلک ہوتی ہے۔ مرمت کے لیے کئی سطحوں اور شعبوں سے اجازت درکار ہوتی ہے۔ جب تصادم ختم ہوگا تو اس صنعت سے وابستہ کھلاڑی یقیناً نئے سرے سے سمندروں میں ایک سروے کرائیں گے۔ تاکہ وہ اپنی کیبلز کو تحفظ کے لیے زیادہ سے زیادہ امکانات کو پا سکیں اور خطرات سے بچاؤ ممکن بنا سکیں۔

اگر فائبر آپٹک کیبل گر جائیں تو متبادل

ایلن مولڈین کے مطابق پانیوں کے نیچے موجود فائبر آپٹک کو ہونے والے نقصان سے صارفین کے مکمل رابطے متاثر نہیں ہوں گے۔ کیونکہ ان کے پاس زمین کے راستے بھی رابطوں کا امکان موجود ہوگا۔ ماہرین کا اس امر پر بھی اتفاق ہے کہ سمندری پانیوں کے نیچے بچھائی گئی فائبر آپٹک کے نقصان کا سیٹلائٹ کے ذریعے مکمل ازالہ نہیں کیا جا سکتا کہ سیٹلائٹ اتنی بڑی تعداد میں نہ ٹریفک کو سنبھال سکیں گے اور نہ صارفین سیٹلائٹ کے ذریعے ملنے والی انٹرنیٹ سروسز کے اخراجات آسانی سے برداشت کر سکیں گے۔ یہ ایسا نہیں ہے کہ آپ نے کسی ایک مسئلے میں مبتلا ہونے کے بعد فوراً سیٹلائٹ کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی متبادل سہولت پا لی۔

مولڈن کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیٹلائٹ کے ذریعے ملنے والے مواصلاتی کنیکشنز زمین پر موجود نیٹ ورکس کے ساتھ بہتر جڑ سکتے ہیں۔ مگر یہ صرف متحرک چیزوں کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ جیسے ہوا میں اڑنے والے جہاز اور سمندروں میں تیرنے والے جہازوں کے لیے۔ کوتکین نے کہا سٹار لنک اپنی موجودہ صلاحیت کی بنیاد پر محدود پیمانے پر ہی متبادل سہولت کا ذریعہ بن سکتا ہے اور یہ لاکھوں کروڑوں صارفین کے لیے حل پیش نہیں کر سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں