شرقِ اوسط جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے 21 افراد کو پھانسی دی، 4000 کو گرفتار کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوامِ متحدہ نے بدھ کو کہا ہے کہ شرقِ اوسط جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے کم از کم 21 افراد کو پھانسی دی ہے اور 4000 سے زیادہ کو گرفتار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ ایران پر امریکی-اسرائیلی حملے شروع ہونے کے بعد سے کم از کم نو افراد کو جنوری 2026 میں ایران میں مظاہروں کے سلسلے میں، مزید 10 کو اپوزیشن گروپوں کی مبینہ رکنیت اور دو کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔

ایجنسی نے مزید کہا کہ اس دوران قومی سلامتی سے متعلق بنیادوں پر اندازاً 4,000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایجنسی نے کہا کہ بہت زیادہ قیدیوں کو جبری گمشدگیوں، تشدد یا "ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک" بشمول جبری اعترافات جو بعض اوقات ٹیلی ویژن پر دکھائے جاتے اور فرضی سزائے موت کا نشانہ بنایا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایک بیان میں کہا، "میں حیران ہوں کہ پہلے ہی تنازعات کے شدید اثرات کے ساتھ ساتھ حکام کی جانب سے سخت اور وحشیانہ طریقوں سے ایرانی عوام کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔"

نیز کہا، "میں حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مزید تمام پھانسیاں روکی جائیں، سزائے موت کے استعمال پر پابندی لگائی جائے، مناسب قانونی کارروائی اور منصفانہ مقدمات کی ضمانتوں کو مکمل طور پر یقینی بنایا جائے اور من مانے طور پر حراست میں لیے گئے افراد کو فوراً رہا کیا جائے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں