پیسکوف ماسکو میں - 22 جنوری 2025 (روئٹرز)

روس کی امریکہ اور ایران سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل

پیسکوف کے مطابق کشیدگی کا نیا دور پوری عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا پیش خیمہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی پر ماسکو کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کی راہ پر واپس آئیں۔

پیسکوف نے آج جمعرات کے روز ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم اس صورت حال پر فکرمند ہیں اور اس تنازع کے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہیں، نیز ہم مذاکرات کے راستے پر واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پیسکوف نے خبردار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا یہ نیا دور نہ صرف مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ پوری عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کشیدگی کا یہ نیا دور خطے کی صورت حال اور مجموعی طور پر بین الاقوامی معیشت کے لیے مزید منفی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران پر دوبارہ زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

اس سے قبل امریکہ نے ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جس کے جواب میں تہران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا... اور اس میں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو ہدف بنانے کا اعلان کیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں