بدخشان لڑائی کے دہانے پر، سونے کی کانیں طالبان رہنماؤں کے درمیان تنازع کا باعث
طالبان کو خدشہ ہے کہ تاجکستان بدخشان کے اندرونی اضطراب کا فائدہ اٹھا سکتا ہے:العربیہ ڈاٹ نیٹ ذرائع
طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد نے شمال مشرقی افغانستان کے صوبہ بدخشان کا دورہ کیا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب طالبان کی مرکزی قیادت اور صوبہ زابل کے سابق نائب گورنر جمعہ خان فاتح کے درمیان اندرونی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ جمعہ خان فاتح بدخشان میں طالبان کے سب سے بااثر مقامی کمانڈروں میں سے ایک ہیں اور اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کشیدگی اس حساس سرحدی علاقے میں مسلح تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصولہ ذرائع کے مطابق وزیر دفاع کا بدخشان کا دورہ طالبان کے وفد اور فاتح کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد اور طالبان کی جانب سے صوبے میں فوجی کمک بھیجنے کے بعد سکیورٹی اور عسکری صورتحال کا میدانی جائزہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولوی یعقوب نے چین، پاکستان اور تاجکستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں کا معائنہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اگر اندرونی تنازع بڑھتا ہے تو سرحدیں کنٹرول میں رہیں۔
سونے کی کانوں پر تنازعہ
گذشتہ چند روز کے دوران تنازعہ اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب طالبان قیادت نے بدخشان میں مقامی رہنماؤں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے فیصلے کیے جن میں فاتح کا تبادلہ اور انہیں زابل کے نائب گورنر کے عہدے پر تعینات کرنا شامل تھا۔ اس کے بعد تحریک کی قیادت کی طرف سے شمال مشرقی افغانستان میں سونے کی کانوں سے غیر قانونی کان کنی روکنے کے احکامات جاری ہونے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق جمعہ خان فاتح کو 22 جون کو زابل کے نائب گورنر کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ انہیں اس عہدے پر تعینات کرنے کو بدخشان اور سونے کی کانوں سے دور کرنے کی کوشش سمجھا گیا تھا جن کے گرد انہوں نے اگست سنہ 2021ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان نے دو ہفتے قبل انہیں انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ میں ایک اعلیٰ عہدے کی پیشکش بھی کی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا اور بدخشان میں رہنے پر اصرار کیا۔
گذشتہ چند دنوں کے دوران مقامی ذرائع نے بدخشان کے علاقوں درواز کی جانب طالبان کی فوجی نقل و حرکت کی تصدیق کی ہے جہاں ان کی ایک بڑی تعداد نصئی ضلع میں تعینات ہو گئی ہے جو فاتح کا مرکزی گڑھ ہے۔
طالبان کے حامی میڈیا نے ان سے منسوب ایک آڈیو کلپ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی افواج کے نہتے ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جائے ، انہوں نے طالبان حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا، تاہم انہوں نے اندرونی اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اختلافات کا مطلب حکومت چھوڑنا یا نظام کو ترک کرنا نہیں ہے۔
طالبان میں شمالی اور تاجک حساب کتاب
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق طالبان قیادت بدخشان میں فوجی کارروائی سے گریز کر رہی ہے کیونکہ صوبے کی اکثریت تاجک قومیت پر مشتمل ہے جو شمالی افغانستان میں پھیلی ہوئی ہے جبکہ طالبان کی مرکزی قیادت تاریخی طور پر ملک کے جنوب اور مشرق میں وسیع تر پشتون اڈے پر منحصر ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ یہ پہلو بدخشان میں کسی بھی اندرونی تنازعے کو زیادہ حساس بنا دیتا ہے کیونکہ یہ طالبان اور شمالی علاقوں کے درمیان پرانے اختلافات کو ہوا دے سکتا ہے۔
ذرائع نے نشاندہی کی کہ بدخشان کی سرحدی پوزیشن کی وجہ سے صورتحال کی حساسیت زیادہ ہے۔ صوبے کی سرحدیں تاجکستان سے ملتی ہیں، واخان راہداری کے ذریعے چین سے جڑتا ہے اور پاکستان کے ساتھ بھی سرحدی روابط رکھتا ہے۔ طالبان کو خدشہ ہے کہ علاقائی قوتیں کسی بھی اندرونی لڑائی کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں خاص طور پر گذشتہ چند مہینوں کے دوران پاکستان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں اور اس کے ساتھ منسلک گولہ باری اور ڈرون حملوں کے سیکورٹی کی بعد صورت حال خراب ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق طالبان کو یہ بھی خدشہ ہے کہ تاجکستان بدخشان کے اندرونی اضطراب کا فائدہ اٹھا سکتا ہے کیونکہ تاجکستان کے طالبان کے پہلے دور حکومت سے ہی تحریک کے مخالف تاجک قوتوں کے ساتھ تاریخی تعلقات رہے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ تاجکستان کے حوالے سے حساسیت نہ صرف مشترکہ سرحدوں سے متعلق ہے بلکہ تاجک سرزمین پر طالبان مخالف مسلح افغان محاذوں کی سیاسی اور میڈیا سرگرمیوں سے بھی جڑی ہے۔ طالبان کو ڈر ہے کہ جمعہ خان فاتح کے ساتھ کوئی بھی تصادم انہیں فریڈم فرنٹ یا نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے قریب لا سکتا ہے یا کسی مقامی مسلح محاذ کی تشکیل کا باعث بن سکتا ہے۔
جہاں تک چین کا تعلق ہے بدخشان میں سکیورٹی کی کوئی بھی خرابی بیجنگ کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے خاص طور پر بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق چینی جنگجوؤں جن میں مشرقی ترکستان تحریک سے وابستہ عناصر شامل ہیں کا شمالی صوبوں بشمول بدخشان میں منتقلی کا ذکر ملتا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بدخشان میں اندرونی لڑائی کے پھیلنے کی صورت میں چینی جنگجوؤں کا مقامی حلیفوں کے ساتھ شامل ہونا اس بحران کو چین کی سرحدوں پر سکیورٹی کے خدشات کا باعث بنا سکتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحدی پہلو مولوی یعقوب مجاہد کے بدخشان کے دورے کی وجہ واضح کرتا ہے۔ طالبان قیادت نہیں چاہتی کہ کسی مقامی رہنما کے ساتھ اندرونی تنازع تین ممالک کی سرحدوں پر کھلے بحران میں بدل جائے یا شمالی علاقوں کے اندر کمزوری کا پیغام جائے۔ بدخشان طالبان کے لیے اپنی اندرونی اختلافات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کا ایک نیا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔