سوڈان کی جنگ میں چھےماہ میں 300 سےزائد بچےہلاک،زیادہ ترہلاکتیں ڈرون حملوں سےہوئیں:یونیسیف

امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کا اظہارِ تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال نے پیر کو کہا ہے کہ سوڈان جنگ میں گذشتہ چھے ماہ کے دوران 300 سے زائد بچے ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر ہلاکتیں ڈرون حملوں سے ہوئیں۔

سوڈان اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جنگ کی زد میں ہے۔

یونیسیف کے مطابق جنگ اب کردفان، دارفور اور بلیو نائلز ریاستوں میں مرتکز ہے اور ڈرون جنگ 60 فیصد ہلاکتوں کی وجہ بنی ہے۔

آر ایس ایف اور فوج شمالی کردفان میں فوجی اہمیت کے حامل شہر الابیض کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں جس پر اقوامِ متحدہ، امریکہ، برطانیہ اور دیگر نے ممکنہ مظالم کے بارے میں خطرے کا اظہار کیا ہے۔

اس تنازعے سے کم از کم 59,000 افراد ہلاک اور تقریباً 13 ملین بے گھر جبکہ سوڈان کے کئی حصے قحط کا شکار ہو گئے ہیں۔ 30 ملین سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

ڈرون حملوں اور گولہ باری سے سکولوں، بازاروں، ایندھن اور پانی کے سٹیشنوں سمیت شہریوں کے بنیادی ڈھانچے نشانہ بنے ہیں جس سے 500,000 سے زیادہ افراد خطرے میں ہیں۔ عام شہریوں کو تقریباً ایک سال سے محاصرے جیسے حالات کا سامنا ہے۔

سوڈان کے لیے یونیسیف کے نمائندے شیلڈن ییٹ نے کہا، "بچے تشدد، نقلِ مکانی اور محرومی کے ایک مسلسل چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔"

اقوامِ متحدہ نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ "شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کریں؛ انسانی امداد کی محفوظ، تیز رفتار اور بلاتعطل رسائی کی اجازت دیں اور بچوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں