ایران کی نئی قیادت زیادہ انتہا پسند ہے:اسرائیلی ذرائع

نئی ایرانی لیڈرشپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل دونوں پر سیاسی فتح حاصل کر لی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اعلیٰ سطحی اسرائیلی عسکری اور سفارتی ذرائع نے اسرائیلی اسٹریٹجک اندازوں میں نمایاں تبدیلی کا انکشاف کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ ایران کی نئی قیادت علی خامنہ ای کے دور کے مقابلے میں زیادہ انتہا پسند، غیر مستحکم اور جذباتی ہے۔ خامنہ ای کو ایک ایسا رہنما سمجھا جاتا تھا جن کی واضح سرخ لکیریں تھیں اور ان کی اسٹریٹجی کی پیش گوئی ممکن تھی۔

مانیٹر ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق نئی ایرانی قیادت کا یہ ماننا ہے کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل دونوں پر سیاسی فتح حاصل کر لی ہے جو اسرائیل کے لیے ڈیٹرنس یعنی روک تھام کے مشن کو مزید پیچیدہ اور پہلے سے زیادہ مشکل بنا رہی ہے۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ امریکہ ۔ ایران مفاہمت میں کوئی بھی پیش رفت براہ راست لبنان کے میدان پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایک اسرائیلی سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک وسیع تر علاقائی معاہدے کے تحت وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج واپس بلا لیں۔

اس تناظر میں ذریعے نے لبنان اسرائیل فریم ورک پر اسرائیل کے دستخط کی وضاحت کی جو 26 جون کو واشنگٹن میں طے پایا تھا کہ نیتن یاھو چاہتے تھے کہ بعد میں وہ کسی بھی انخلا کو امریکی احکامات کی تعمیل کے بجائے ایک اسرائیلی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ ایران مذاکرات اب ایٹمی پروگرام ،بیلسٹک میزائل یا مسلح گروہوں کی حمایت پر مرکوز نہیں رہے بلکہ اب یہ مذاکرات آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی سفارتی ذریعے نے اس تبدیلی کو بذات خود اسرائیل کے لیے ایک اسٹریٹجک شکست قرار دیا کیونکہ جنگ کا آغاز بالکل مختلف مقاصد کے ساتھ ہوا تھا۔ کچھ اسرائیلی حکام نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اسرائیل اس جنگ سے پہلے کی نسبت اب زیادہ خراب اسٹریٹجک صورتحال میں ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی ادارے کے اندر کچھ حلقے ایسے ہیں جو امریکہ ایران مذاکرات کی ناکامی کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کے اندازے کے مطابق اس سے ٹرمپ دوبارہ فوجی آپشن پر غور کرنے یا مکمل بحری محاصرے اور زیادہ سے زیادہ پابندیاں دوبارہ عائد کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں جو کہ موجودہ مفاہمت کے مقابلے میں ان کا پسندیدہ منظر نامہ ہے۔

رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ نیتن یاھو ایران ،حزب اللہ اور حماس کے خلاف جس مکمل فتح کا وعدہ کیا تھا اسے حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اب انتخابی نعروں کو دوبارہ مرتب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اسرائیلیوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ریاست کو وجودی خطرے سے بچایا ہے اور وہ واحد شخص ہیں جو مستقبل میں ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روک سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں