غزہ کے فلسطینیوں کی ہجرت۔
اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سینئر ذمے داران ایک منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت غزہ کی پٹی کے شمالی حصے کو فوجی علاقے میں تبدیل کر دیا جائے اور وہاں کی دو لاکھ کی آبادی کو غزہ پٹی کے جنوب میں منتقل کر دیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد مذکورہ علاقے کو مکمل طور پر اسرائیلی فوجی کنٹرول میں رکھنا ہے۔ یہ بات اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتائی۔
یہ بات ایسے موقع پر سامنے آئی ہے کہ جب غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات میں ڈیڈلاک کو ختم کرنے کے لیے ثالث [مصر، قطر اور امریکہ] تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
غزہ کی تقسیم
مصر میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں سینئر ایڈوائز میجر جنرل اسامہ محمود نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسرائیل اس وقت غزہ کی پتی کو تین ٹکڑیوں میں تقسیم کر رہا ہے تا کہ اسے بتدریج اسرائیلی خود مختاری میں ضم کرنے کی ابتدا ہو سکے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت نے بریگیڈیر جنرل العاد گورین کو انسانی کوششوں کا سربراہ مقرر کیا ہے تاکہ وہ انروا کے بدلے غزہ پٹی کے شمال میں شہری انتظامیہ کے سربراہ کا کردار ادا کریں۔ اسی طرح جیسے کرنل ہشام ابراہیم مغربی کنارے میں شہری انتظامیہ کے سربراہ ہیں۔
اسامہ کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ بے گھر فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی کے شمال میں اپنے گھروں کو واپسی نہ ہو۔ بالخصوص بیت لاہیا، بیت حانون، جبالیہ، شجاعیہ اور غزہ شہر میں جہاں کی آبادی جنگ کی وجہ سے غزہ پٹی کے جنوب میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئی۔
شمالی غزہ کے مہاجر فلسطینی
نیتن یاہو نے اس مشکل شرط کو جنگ بندی کے لیے بنیادی مطالبات میں رکھا ہے۔
مصری عسکری عہدے دار کے نزدیک اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے وسطی حصے کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جہاں شمالی غزہ کے اکثرین بے گھر فلسطینی موجود ہیں۔ اس کا مقصد بے گھر افراد پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ جنوب کی سمت چلے جائیں تا کہ غزہ کی پٹی کا شمالی حصہ پر امن بن جائے۔
اسامہ اس بات پر زور دیا کہ نیتن یاہو اسرائیلی بستیوں میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں اور جنگ کے بعد کے مرحلے میں غزہ پٹی کے شمالی حصے کو اسرائیل میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل "جنرلوں کا منصوبہ" کے نام سے ایک پلان کا انکشاف ہوا تھا جس کو اسرائیلی فوج کی اسٹاف کمیٹی میں آپریشنز ڈپارٹمنٹ کے سابق سربراہ جنرل گیور آئلینڈ نے تیار کیا۔ نیتن یاہو جنگ شروع ہونے کے بعد سے آئیلینڈ سے مشاورت کر رہے ہیں۔
اس منصوبے کے مطابق فوج کو غزہ میں دو مرحلوں میں عمل درآمد کرنا ہے۔ پہلے مرحلے میں شمالی غزہ کی پٹی کی بقیہ آبادی کو جبری ہجرت پر مجبور کر کے اسے بند فوجی علاقے میں تبدیل کرنا ہے۔ دوسرے مرحلے میں غزہ پٹی کے باقی حصوں میں اسی نوعیت کی جبری ہجرت پر عمل کروانا ہے۔ یہ بات اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے بتائی۔