سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ہسپانیہ کے وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس کے درمیان ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات میں غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ، انسانی بنیادوں پر کی جانے والی کوششیں اور جنگ بندی کی کوششوں کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔
مملکت کے سرکاری خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' کے مطابق سعودی وزیر خارجہ یورپی اور مسلم ممالک کے غزہ کے بارے میں مشترکہ رابطہ گروپ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ہسپانیہ پہنچے تھے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے عالمی سطح پر جاری کوششوں پر بات چیت کی ہے۔
سعودی و ہسپانوی وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات اجلاس کے میزبان وزیر خارجہ کے ساتھ سائیڈ لائنز میں ہوئی۔ اجلاس میں شرکت کے لیے رابطہ گروپ میں شامل ملکوں کے وزرائے خارجہ کے علاوہ یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل بھی شریک رہے ہیں۔
سعودی و ہسپانوی وزرائے خارجہ کے درمیان جنرل اسمبلی کے متوقع اجلاس کے لیے فلسطین کاز کے بارے میں یورپی اور مسلم ملکوں کے گروپ کی طرف سے موثر حکمت عملی پر غور کیا گیا ۔ توقع کی جارہی ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کا ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس کافی اہم ہوگا۔
دریں اثنا میڈرڈ میں ہسپانیہ کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں مشرق وسطیٰ کے اہم ترین تنازعہ کے دو ریاستی حل پر زور دیا گیا ہے۔ اسرائیل کو اس پلیٹ فارم کا رکن نہیں بنایا گیا ہے۔ اس لیے اجلاس میں اسرائیلی نمائندگی نہیں تھی۔
واضح رہے ہسپانیہ نے ناروے اور آئر لینڈ سمیت 28 مئی کو فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ ان یورپی ملکوں کی واضح رائے ہے کہ یہ دوریاستی حل ہی تنازعے کا دیر پا حل ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رواں سال ایک اہم اجلاس کے دوران فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کے لیے قرار داد منظور کی گئی ہے۔ جسے 193 میں سے 146 ووٹ ملے تھے۔