فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی بڑھتی کارروائیوں پر سپین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں ہونے والی صورت حال اور تباہی کو غرب اردن کےعلاقوں میں نہیں دہرانا چاہیے۔
مغربی کنارے کے لیے تشویش
ہسپانوی وزیر خارجہ ہوزے مینوئل البریز نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک مغربی کنارے میں غزہ کے منظر نامے کو دہرائے جانے پر فکر مند ہے۔
انہوں نے العربیہ/الحدث کو دیے گئے بیانات میں مزید کہا کہ دو ریاستی حل کے بارے میں بات کرنے کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ اب اس پر عمل کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ان کے ملک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، جس میں بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی حمایت کو نوٹ کیا جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈرڈ ’انروا‘ کے لیے اپنی حمایت میں اضافہ کرے گا، کیوں کہ اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے تنظیم کو 50 ملین یورو فراہم کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپین بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپین اور فلسطین دو طرفہ سربراہی اجلاس فلسطینیوں کو امید دے گا۔
سعودی عرب کے ساتھ تعاون کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں سپین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک ریاض کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ریاض اور میڈریڈ کے درمیان دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی سطح پر مضبوط تعاون ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ان کے ملک کے مملکت کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجک تعلقات ہیں۔
وسیع فوجی آپریشن
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگست کے اواخر سے اسرائیل نے غرب اردن کے شمالی شہروں طوباس، جنین اور طولکرم کے ساتھ ساتھ ان شہروں کے اندر واقع پناہ گزینوں کے کیمپوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے جن میں مسلح دھڑوں کے جنگجو اسرائیلی فوج سے برسرپیکار ہیں۔
اسرائیل نے 1967ء سے مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر رکھا ہے۔ سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل میں حماس کے ایک غیر معمولی حملے کے بعد غرب اردن میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد وشمار کے مطابق اسرائیلی فوجیوں یا آباد کاروں کی فائرنگ سے کم از کم 679 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فلسطینیوں کے حملوں یا فوجی کارروائیوں میں فوجیوں سمیت کم از کم 24 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔