وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے فلسطینیوں کے ساتھ جاری جبر و تشدد کے نتیجے میں پیش آنے والے مصائب اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس پر آنے والے بیانات ایک ڈھونک کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ بین الاقوامی سطح پر اتحاد و انصاف کے تصور کے بھی برعکس صورتحال ہے۔
انہوں نے اس امر کا اظہار غزہ میں ایک پناہ گاہ میں تبدیل ہو چکے سکول پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 18 افراد کی ہلاکت کے واقعے پر اقوام متحدہ کے مستقبل کے بارے میں ایک کانفرنس کے دوران کیا ہے۔
ان کا یہ خطاب کانفرنس کے ورچوئل سیشن کے دوران تھا۔ جہاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں اسرائیلی جنگ اور مظالم کی مذمت کی۔
یاد رہے بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے 'انروا' کے زیر اہتمام النصیرات میں قائم سکول پر بمباری کی ہے۔ جس کے نتیجے میں بے گھر فلسطینیوں میں سے مزید 18 کو قتل کر دیا گیا ہے۔
اس واقعے کے بعد ایک بار پھر بین الاقوامی برادری کی توجہ غزہ میں جاری بمباری اور فلسطینیوں کے ساتھ پیش آنے ولے واقعات کی طرف مبذول ہوئی۔ جو آج کے دور کا ایسا واقعہ ہے جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا 'ہم مسلسل ٹکراؤ اور تصادم کے خطرے کی زد پر ہیں۔ ہمیں اب انصاف چاہیے۔ فلسطین کے مظلوم عوام کے مصائب ختم ہونے چاہییں اور ان کے ساتھ جاری ڈھونک کو ختم کیا جانا چاہیے۔'
واضح رہے غزہ میں اسرائیلی جنگ بارھویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ اس مسلسل جنگ نے اب تک اکتالیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کی جان لے لی ہے۔ جبکہ اسرائیل نے تقریباً 23 لاکھ فلسطینیوں کے گھر تباہ کر کے انہیں بےگھر کر دیا ہے۔ ایک ایک گھر اور آبادی پر بار بار بمباری کی جا چکی ہے۔ غزہ میں قحط اور بیماری کا راج ہے۔
خیال رہے پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے جو کہ 1967 کی جنگ سے پہلے کے رقبے پر مشتمل ہو۔
پاکستان نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے شروع ہونے کے ساتھ ہی بار بار اس جنگ کی مذمت کی ہے۔