من التوغل الإسرائيلي في القنيطرة بسوريا - رويترز
شام: اسرائیلی فوج ایک بار پھر قنیطرہ کے ایک قصبے میں داخل
تقریبا ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے اسرائیل کی شامی اراضی میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
العربیہ نیوز کے نمائندے نے آج جمعے کے روز بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج قنیطرہ کے جنوبی دیہی علاقے میں واقع "الرفید" قصبے میں داخل ہو گئی۔
نمائندے کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کو شام کے جنوب مغرب میں واقع اس قصبے میں لوگوں کے گھروں کے بیچ دیکھا گیا۔ چند روز قبل اسرائیلی فوج عین النوریہ گاؤں میں داخل ہو گئی تھی۔
آج ہونے والے دھاوے میں نئی اور عجیب بات یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے مقامی کا سروے کیا۔ اس دوران میں قصبے میں رہنے والوں کے نام، ہر خاندان کے افراد کی تعداد اور ان کی ضروریات کے بارے میں معلومات طلب کی گئیں گویا کہ یہ مردم شماری ہو رہی ہو۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
گذشتہ دو ماہ کے دوران میں اسرائیلی فوج نے قنیطرہ اور درعا صوبوں میں اپنی کارروائیاں مرکوز کیں جہاں اس کے فوجی درجنوں قصبوں اور دیہات میں داخل ہونے کے بعد باہر نکل گئے۔
چند روز قبل سامنے آنے والی سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق اسرائیلی فوج نے شام کے اندر فوجی کمک پہنچائی اور وہاں مستقل فوجی اڈے بھی قائم کر لیے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اسرائیل نے قنیطرہ میں دو فوجی اڈے بنائے جن کو ریتیلے راستوں کے نیٹ ورک کے ذریعے شام کے مقبوضہ گولان کے پہاڑی علاقے سے جوڑا گیا۔ اسی طرح سیٹلائٹ تصاویر سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ علاقے میں تیسرے اڈے کے قیام کے لیے زمین کو ہموار کر لیا گیا ہے۔
ڈیڑھ ماہ پہلے اسرائیلی فوج شام کے اندر سرحد کے متوازی بفرزون میں داخل ہو گئی تھی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ یہ اقدام سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اسی طرح اسرائیلی فوج نے جبل الشیخ کے تزویراتی پہاڑ کی سمت بھی پیش قدمی کی۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے باور کرایا کہ ان کی فوج یہاں باقی رہے گی۔
یاد رہے کہ آٹھ دسمبر (2024) کو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں میں واقع بفرزون میں (10 سے زیادہ مقامات پر) پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ اس بفرزون نے 1974 سے اسرائیل اور شام کے زیر کنٹرول علاقوں کو علاحدہ کر رکھا ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی نوعیت کا ایک عارضی اقدام ہے جس کا مقصد شام کی سمت سے اپنے ملک کو درپیش ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ البتہ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل کو سرحد پر سیکورٹی ضمانت حاصل ہونے تک اس کی فوج علاقے میں باقی رہے گی۔