اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ہفتے کے روز جنوبی شام میں ایک فضائی حملہ کیا جس میں حماس کے زیرِ استعمال ہتھیاروں کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔
فوج نے ایک بیان میں کہا، "اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر جنوبی شام میں دیر علی کے علاقے میں ہتھیاروں کے ذخیرے پر حملہ کیا جس کا تعلق حماس سے تھا۔"
فوج نے کہا کہ وہ "اپنے تمام محاذوں پر حماس کی صلاحیتوں کا خاتمہ جاری رکھے گی اور دہشت گرد تنظیموں کی قدم جمانے اور اپنی افواج تیار کرنے کی تمام کوششوں کے خلاف کام کرے گی۔"
اسرائیل نے شام میں 2011 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے سینکڑوں حملے خاص طور پر ایران سے منسلک اہداف پر کیے ہیں۔
دسمبر میں بشار الاسد کی معزولی کے بعد اسرائیل نے شام کے فوجی اثاثہ جات پر مزید سینکڑوں فضائی حملے کیے۔ ان کے بارے میں اس نے کہا کہ حملوں کا مقصد ان اثاثہ جات کو دشمن کے ہاتھوں میں جانے سے روکنا تھا۔
اسرائیلی فوجی گولان کی پہاڑیوں میں اقوامِ متحدہ کے گشت والے بفر زون میں بھی داخل ہو گئے جو اسرائیلی اور شامی افواج کو الگ کرتا ہے۔
-
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران سیکٹروں پر عائد اولین پابندیوں کی تفصیل
امریکا نے جمعرات کے روز ایک بین الاقوامی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان ...
بين الاقوامى -
ایران: سردی کی شدید لہرکے باعث سکول اور دفاتر بند کر دیے گئے
ایرانی حکام نے سردی کی لہر میں شدت کے پیش نظر ملک بھرکے تعلیمی ادارے اور سرکاری ...
مشرق وسطی -
ایران کے قائدِ اعلیٰ خامنہ ای کی تہران میں حماس کے سرکردہ رہنماؤں سے ملاقات
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے قائدِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے ہفتہ کے روز ...
مشرق وسطی