شام کی سرحد کے قریب مشرقی لبنان پر اسرائیلی حملہ، چھ افراد ہلاک

وادی البقاع میں حزب اللہ کے ہتیھاروں کی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کی سرحد سے متصل مشرقی لبنان کے پہاڑی سلسلے کے مضافات میں اسرائیل نے حملہ کردیا۔ اس حملے میں 6 افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔

ایک اسرائیلی ڈرون نے ہفتہ کی سہ پہر مشرقی لبنان کے پہاڑی سلسلے کے مضافات میں "الشعرہ" کالونی میں البقاع کے ضلع بعلبیک کے دیہاتوں پر حملہ کیا۔ ایجنسی نے اشارہ کیا کہ مشرقی لبنان کے پہاڑی سلسلے کی ڈھلوان پر واقع قصبے جنتا سے ملحق "الشعرہ" محلے پر دشمن کے ڈرون حملے میں چھ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس کی فضائیہ نے حزب اللہ سے وابستہ ایک مسلح گروپ پر حملہ کیا جو لبنان کی وادی البقاع میں تزویراتی ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کی سہولت میں کام کر رہا تھا۔ فوج نے مزید کہا کہ اس مقام پر سرگرمی اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

لبنانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل نے مشرقی لبنان میں حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے مقامات پر چھاپے مارے ہیں جس کے نتیجے میں جنگجو اور عام شہری ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔ واضح رہے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 26 نومبر کو جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا۔ جنگ بندی پر عمل درآمد اگلے روز صبح سویرے شروع ہوا۔ لبنانی حکومت نے 18 فروری تک جنگ بندی مفاہمت کے تحت کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیح بری نے ہفتہ کو تمام لبنانی علاقوں سے اسرائیل کے انخلاء کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل "مطلق برائی" ہے اور لبنانی علاقوں پر اس کے مسلسل قبضے کے خلاف مزاحمت کی ضرورت ہے۔ آج بیروت میں عین التینہ میں نبیح بری نے امریکی سفیر لیزا جانسن کی موجودگی میں مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نائب ایلچی مورگن اورٹاگس اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کا استقبال کیا۔

نبیح بری نے کہا کہ امریکی انتظامیہ معاہدے کے ضامن کے طور پر اسرائیل کو اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کی شقوں کے مطابق مکمل عمل درآمد کرنے کا پابند کرے۔ اس میں سب سے اہم لبنانی قومی سرزمین سے انخلاء ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں