شام : سال کے آخر تک اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے ممکن ہو جائیں گے، وزارت خارجہ حکام
شام کی وزارت خارجہ کے حکام نے جمعرات کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رواں سال کے اختتام تک شام اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی سے متعلق معاہدوں کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔
حکام نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ یہ ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا جو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد طے کیا جانا ممکن ہو جائے گا۔
جمعرات کے روز ہی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی واشنگٹن پہنچے ہیں۔ ٹی وی رپورٹس کے مطابق شام کا کوئی وزیر خارجہ 25 سال کے وقفے کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ گیا ہے۔ جو کہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔
حکام نے کہا اسی طرح اسرائیل کے ساتھ بات چیت میں بھی پیش رفت ہے۔
وزارت خارجہ کے اس حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا اسرائیل کے ساتھ ہمیں امید ہے مختلف معاہدوں پر دستخط ہوجائیں گے اور یہ سب اسی سال کے اواخر تک ممکن ہوجائے گا۔
ابتدائی طور پر ہماری ترجیح سیکیورٹی سے متعلق معاہدات ہیں۔ جن کے نتیجے میں اسرائیل شام کے اندر فوجی کارروائیوں کو روک دے گا۔
دریں اثناء شامی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ اسعد الشیبانی واشنگٹن کے دورے کے دوران شام پر عائد کی گئی پابندیاں ختم کرانے کی کوششیں کریں گے۔
خیال رہے بشار الاسد کی حکومت کے 8 دسمبر 2024 کو ہونے والے خاتمے کے بعد امریکی حکومت اس سے پہلے بھی شام پر عائد کئی پابندیاں واپس لے چکی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسعد الشیبانی کے اس دورہ امریکہ سے پہلے 1999 میں امریکہ و شام کے درمیان سفارتی روابط تھے اور وزراء کا بھی آنا جانا تھا۔
یاد رہے امریکہ بھی شام پر زور دے رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ معاہدات کی طرف بڑھے اور دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی ختم ہو جائے جو تکنیکی اعتبار سے 1948 سے ایک طرح سے جنگی کیفیت میں ہیں۔