امریکی ویب سائٹ "axios" نے سینیٹر لِنزی گراہم کے حوالے سے بتایا ہے کہ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اس ہفتے واشنگٹن میں امریکی قانون سازوں سے ملاقات کریں گے، تاکہ اپنے ملک پر عائد باقی ماندہ امریکی پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت کی جا سکے۔
الشیبانی کا یہ دورہ 25 سال سے زائد عرصے میں کسی بھی شامی وزیر خارجہ کا واشنگٹن کا پہلا دورہ ہو گا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شامی صدر احمد الشرع نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات آئندہ دنوں میں نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔
گراہم نے "ایکسیوس" ویب سائٹ کو بتایا کہ ان کے ساتھ دیگر سینیٹر بھی آج (جمعرات) الشیبانی سے ملاقات کریں گے تاکہ ان مخصوص پابندیوں پر بات کی جا سکے جو واشنگٹن نے قوانین کے تحت عائد کی ہیں۔
مذکورہ ویب سائٹ کے مطابق توقع ہے کہ الشیبانی کل (جمعے) کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات کریں گے۔
گراہم نے کہا کہ اگر شام نے با ضابطہ طور پر اسرائیل کے ساتھ نیا سکیورٹی معاہدہ کرنے کی جانب پیش قدمی کی اور داعش کے خلاف اتحاد میں شامل ہو گیا، تو وہ ان پابندیوں کو ختم کرنے کی سفارش کریں گے۔
امریکی وزارت خارجہ نے تا حال الشیبانی کے دورے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
ادھر شام اور اسرائیل کے درمیان وہ مذاکرات جاری ہیں جن کے نتیجے میں دمشق کو امید ہے کہ اسرائیل اپنی فضائی کارروائیاں روک دے گا اور جنوبی شام میں داخل ہونے والی اپنی افواج واپس بلا لے گا۔
"روئٹرز" نے اس ہفتے بتایا کہ واشنگٹن شام پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کی شرکت سے قبل کوئی معاہدہ طے پا سکے۔
تاہم صدر احمد الشرع نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ امریکہ شام پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل شام پر ایک ہزار سے زائد فضائی حملے کر چکا ہے اور 8 دسمبر سے اب تک 400 سے زیادہ زمینی دراندازیاں کی ہیں۔
واضح رہے کہ اپوزیشن کے حملے کے نتیجے میں سابق صدر بشار الاسد کو 13 سالہ خانہ جنگی کے بعد گزشتہ برس دسمبر کے پہلے ہفتے میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سال کے اوائل میں شام پر عائد چند بڑی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔