یورپی کمیشن نے تجویز دی ہے کہ دو اسرائیلی وزراء ایتمار بن گوئیر (قومی سلامتی) اور بتسلئیل سموٹرچ (مالیات) کو یورپی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
کمیشن نے آج بدھ کے روز مزید تجویز دی کہ تین یہودی بستی نشین جنھوں نے فلسطینیوں پر تشدد کیا، چھ ادارے اور حماس کی قیادت کے دس افراد کو یورپی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
اسی طرح یورپی کمیشن نے مشورہ دیا کہ غزہ میں جنگ کی وجہ سے اسرائیلی مصنوعات سے متعلق آزاد تجارتی معاہدوں کو معطل کیا جائے، حالانکہ اس اقدام کو فی الحال یورپی یونین کے رکن ممالک کی طرف سے کافی حمایت حاصل نہیں ہے۔
کمیشن نے واضح کیا کہ وہ صرف کسٹمز کی مراعات کو معطل کرنے کی تجویز دے رہا ہے، تجارتی تعلقات نہیں۔
العربیہ کے نمائندے کے مطابق یورپی پابندیوں کی اس منصوبے میں یہودی بستیوں کی مصنوعات شامل نہیں ہیں۔
غزہ پر اسرائیلی حملہ
یہ اعلان غزہ شہر پر اسرائیلی زمینی حملے کے دوسرے دن سامنے آیا۔ اسرائیلی فوج نے بدھ کو بتایا کہ اس کی فورسز "غزہ شہر کی گہرائی میں پیش قدمی کر رہی ہیں"۔
فوج نے مزید کہا کہ اسرائیلی فورسز "غزہ میں حماس کی استعمال کردہ عسکری عمارتوں کو تباہ کر رہی ہیں" اور فضائیہ اور توپ خانہ گزشتہ دو دنوں میں شہر کے مختلف علاقوں میں 150 سے زیادہ اہداف پر حملے کر چکے ہیں تاکہ زمینی فورسز کی مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے رہائشیوں کے لیے "عارضی نقل و حرکت کا راستہ" قائم کیا ہے۔ فوجی ترجمان آویخائی ادرعی نے "ایکس" پر بیان میں کہا "جنوب کی طرف نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے شارع صلاح الدین کے ذریعے عارضی راستہ کھولا گیا ہے" اور اس کی مدت (بدھ کی دوپہر سے جمعہ کی دوپہر تک) 48 گھنٹے ہو گی۔
شارع صلاح الدین، غزہ کے ساحل کے متوازی شمال سے جنوب تک پھیلی ہوئی ہے۔
"حماس کا قبرستان"
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے کل منگل کو دھمکی دی کہ وہ غزہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے اور اسے "حماس کا قبرستان" بنا دیں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس کو یرغمالیوں کو نقصان پہنچانے سے خبردار کیا۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا "اگر کسی بھی یرغمالی کے سر کے بال کو بھی نقصان پہنچا، تو ہم انھیں (حماس) زندگی کے آخر تک زیادہ شدت کے ساتھ نشانہ بنائیں گے اور ان کا خاتمہ اس سے بھی زیادہ تیزی سے آئے گا جتنا وہ سوچتے ہیں۔"
اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حماس "اگر یرغمالیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے تو وہ بھاری قیمت ادا کرے گی"۔
اب بھی 48 اسرائیلی یرغمالی فلسطینی علاقے میں محصور ہیں، جبکہ اسرائیلی اطلاعات کے مطابق ان میں سے صرف 20 زندہ ہیں۔
اس دوران تقریباً 400,000 فلسطینی غزہ کے جنوب کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں حالانکہ محاصرہ شدہ علاقے میں ہر جگہ محفوظ پناہ گاہیں دستیاب نہیں ہیں۔ اس بات کی تصدیق اقوام متحدہ نے کی ہے۔
-
غزہ میں نسل کشی: فوجداری عدالت اورعدالت انصاف کااسرائیل اورنیتن یاہوکےخلاف فیصلہ کیا ہوگا
اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کی رپورٹ میں یہ بات کہ 'اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر ...
مشرق وسطی -
القسام بریگیڈز نے اسرائیلی یرغمالیوں کوغزہ کے مختلف مقامات پر منتقل کر دیا ہے : حماس ذرائع
ذریعے نے العربیہ کو باور کرایا کہ "اسرائیل کی شدید بم باری کے سبب یرغمالیوں کی ...
مشرق وسطی -
غزہ میں نسل کشی پر 'یونی لیور' کی مسلسل خاموشی پراحتجاج ، بین اینڈ جیری کےشریک بانی مستعفی
بین الاقوامی تجارتی زنجیر 'بین اینڈ جیری' کے شریک بانی جیری گرین فیلڈ نے استعفی دے ...
بين الاقوامى