FILE PHOTO: Israeli Foreign Minister Israel Katz waits for his British and French counterparts for a meeting, amid the conflict between Israel and Hamas, in Jerusalem August 16, 2024. REUTERS/Florion Goga/File Photo
"تمھاری باری بھی آئے گی".... اسرائیلی وزیر دفاع کی عبد الملک الحوثی کو دھمکی
کاتز نے "ایکس" پر لکھا کہ "تمھیں اپنی حکومت کے ارکان سے ملاقات کے لیے بھیجا جائے گا"
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے یمن میں حوثیوں کے رہنما عبدالملک الحوثی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ "تمھاری باری بھی آئے گی"۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا "اے عبدالملک الحوثی، تمھاری باری بھی آئے گی۔"
کاتز نے مزید کہا کہ "تمھیں اپنی حکومت کے ارکان سے ملاقات کے لیے بھیجا جائے گا"۔ انھوں نے دھمکی دی کہ صنعاء میں حوثیوں کے جھنڈے پر لکھے نعرے "الموت لإسرائيل" (اسرائیل مردہ باد) کی جگہ اسرائیل کا پرچم لہرا دیا جائے گا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اس سے ایک دن قبل جمعرات کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ یمن سے داغا گیا ایک میزائل فضا میں روک لیا گیا، جبکہ ایک ڈرون نے اسرائیلی شہر ایلات کو نشانہ بنایا۔ حوثیوں نے اسرائیل کے خلاف ان کارروائیوں کی ذمے داری قبول کی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق فضائیہ نے "یمن سے داغے گئے میزائل کو مار گرایا، جس سے کئی علاقوں میں سائرن بج اٹھے۔"
اس سے قبل اسرائیلی پولیس نے کہا تھا کہ اس کے اہل کاروں نے "ایلات میں مشرقی سمت سے آنے والے ڈرون کے ٹکراؤ کی جگہ کو محفوظ بنا لیا ہے۔" یہ شہر جنوبی اسرائیل میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ایک اور بیان میں فوج نے بتایا کہ "تحقیقاتی اور امدادی ٹیمیں اس علاقے میں موجود ہیں جہاں ٹکراؤ کی اطلاع ملی"۔ مزید یہ کہ فضائیہ نے مشرق سے آنے والے ایک اور ڈرون کو مار گرایا۔
حوثیوں نے تین فوجی کارروائیوں کی ذمے داری قبول کی جو اسرائیل کی جانب کی گئیں۔
اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں حوثیوں پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے صنعاء میں ان حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، جن میں ان کے وزیر اعظم، نو وزراء اور حکومتی ارکان بھی شامل تھے۔ ان تمام افراد کو اگست میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثیوں نے اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ اُن تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جنھیں وہ اسرائیل سے منسلک قرار دیتے ہیں اور جو یمن کے ساحلوں کے قریب سے گزرتے ہیں۔
اس کے جواب میں اسرائیل نے یمن میں متعدد حملے کیے، جن میں الحدیدہ کی بندرگاہ، بجلی گھر اور صنعاء کا بین الاقوامی ہوائی اڈا شامل ہیں۔
وزیر دفاع کاتز نے حوثیوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ "اسرائیل پر حملے کی ہر کوشش پر بھاری قیمت ادا کریں گے اور لگاتار کاری ضربیں سہتے رہیں گے"۔