صنعاء : یمنی حوثیوں پر اسرائیلی بمباری، درجنوں رہائشی مکان اور فیول سٹیشن تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیل نے ہفتے کے روز کو یمن میں بمباری اور حملوں کے لیے چنا ہے تاکہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں اور حوثی آبادی کو سبق دے سکیں۔

پچھلے ہی ہفتے میں اسرائیل نے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی سیاسی قیادت کو قطر میں پناہ دینے کے باعث قطری دارالحکومت دوحہ پر بمباری کی تھی۔ اس سے پہلے شام اور لبنان میں بھی یکے بعد دیگرے ایسی ہی بمباری کی جا چکی ہے۔

اسرائیلی بمباری سے یمنی دارالحکومت میں ہفتے کے روز صنعتی علاقے کو بطور خاص تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس بمباری سے صنعا کی رہائشی آبادیوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ بد ترین بمباری سے تباہ ہوچکے گھروں کے مالکان بے گھر ہونے کے بعد عملا بے یار و مدد گار ہو کر رہ گئے ہیں اور انتظامیہ ان کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

اس سے پہلے بدھ کے روز کی گئی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 46 یمنی ہلاک ہو گئے تھے۔ان ہلاک ہونے والوں میں 11 یمنی خواتین اور 5 بچے بھی شامل تھیں۔ اسرائیلی ریاست کی بدھ کے روز کی گئی خوفناک بمباری سے 165 یمنی زخمی ہوئے تھے۔ وزارت صحت نے یہ اعداد و شمار صنعا میں جمعرات کو جاری کیے تھے۔

حوثی انتظامیہ کے مطابق اسرائیلی ریاست نے 11 یمنی صحافیوں کو بھی اسی بمباری میں ہلاک کیا ہے۔ اسرائیلی ریاست اپنے نشانوں میں اہل صحافت اور میڈیا ورکرز کو بھی بطور خاص رکھتی ہے۔ جیسا کہ غزہ میں سینکڑوں صحافیوں کو بھی قتل کر چکی ہے۔

حوثی جنہوں نے نومبر 2023 سے غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے جہازوں کو بحیرہ احمر میں راکٹ اور میزائل حملوں کی زد پر رکھا ہوا ہے۔ اسرائیل کے علاوہ امریکہ و برطانیہ وغیرہ کی بمباری کا بھی اس دوران ہدف بنے ہیں مگر اس کے باوجود وہ ابھی تک باز نہیں آئے ہیں۔

اسی وجہ سے امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی پچھلے بدترین بمباری کے بعد یمنی حوثیوں کے خلاف سب سے بڑی اقتصادی پابندیوں کا نفاذ کیا ہے۔ دوسری جانب حوثی بھی اسرائیلی ریاست کے اندر میزائل حملوں کی کوشش میں رہتے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر ان میزائل حملوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ گویا حوثیوں کے حملے محض سائرن بجانے اور اسرائیلی شہریوں کو بھگانے کے لیے کام آپاتے ہیں۔ بصورت دیگر ناکام ثابت ہو جاتے ہیں۔

اسرائیلی ریاست کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی یمنی ٹھکانوں پر تازہ بمباری حوثیوں کی جانب سے تازہ ڈرون حملوں کے بعد کی گئی ہے۔

اس حوثی ڈرون حملے نے اسرائیل کے فضائی دفاع کو توڑا اور جنوبی اسرائیل کے ہوائی اڈے کو معمولی نقصان پہنچایا۔ ایئرپورٹ کی عمارت کے شیشے اور کھڑکیاں ڈرون حملے سے ٹوٹ گئیں۔ نیز ایک اسرائیلی زخمی ہوگیا۔

دریں اثناء اسرائیلی ریاست کی فوج نے بمباری کر کے یمن میں ایک فوجی ہیڈ کوارٹر اور صنعا کے ایک پٹرول ڈپو کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل حوثیوں نے کہا تھا کہ شمالی صوبے جوف کے دارالحکومت حزم شہر میں سرکاری تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ حوثیوں کی وزارت ثقافت کے مطابق یمن کے قومی عجائب گھر کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے، عجائب گھر کی عمارت کے اگلے حصے کو نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ صنعا میں درجنوں گھر تباہ ہو گئے یا انہیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

صنعا کے وسطی علاقے تحریر میں درجنوں مکانات کو بھی اسرائیلی بمباری سے نقصان پہنچا ہے۔ ام طلال نے کہا اس امر کا یقین نہیں ہے کہ حکام گھر کی مرمت میں مدد و تعاون کریں گے۔ خیال رہے ام طلال اپنی بیٹی اور دو بیٹوں کے ساتھ رہتی ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' سے فون پر بات کرتے ہوئے ام طلال نے کہا بمباری سے کمرے کی دیواریں گر گئی ہیں اور کچن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ یہ سب کچھ پلک جھپکنے میں ہوگیا۔ حکام نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ ہم اپنی مدد آپ کے تحت چیزوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ اپنے گھر میں رہ سکیں۔

ایک اور رہائشی احمد الوسابی نے کہا جس وقت بمباری ہوئی خوش قسمتی سے ہم گھر پر نہیں تھے۔ تاہم ہمارے گھر کو اسرائیلی بمباری سے نقصان پہنچا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں