الرئيس الإيراني مسعود بزشكيان في أرمينيا يوم 19 أغسطس 2025 (رويترز)
ایسے جوہری مذاکرات کو قبول نہیں کریں گے جو نئے مسائل پیدا کریں: ایرانی صدر
ہم نے واضح معیار پر مبنی منطقی اور منصفانہ بات چیت کے لیے اپنی تیاری کی تصدیق کی ہے: مسعود پیزشکیان
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اتوار کے روز کسی بھی ایسے جوہری مذاکرات کو مسترد کر دیا جس سے نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہوں کیونکہ اقوام متحدہ نے ان کے ملک پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا ہم نے ہمیشہ واضح معیار پر مبنی منطقی اور منصفانہ بات چیت کے لیے اپنی تیاری پر زور دیا ہے لیکن ہم ایسے مذاکرات کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے جو ہمارے لیے نئے مسائل اور مسائل کا باعث ہوں۔ ایران نے اتوار کو اپنے جوہری پروگرام پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ قرار دیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ منسوخ قراردادوں کو دوبارہ فعال کرنا قانونی عمل کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایسا کرنے کی کوئی بھی کوشش کالعدم ہے۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق اقوام متحدہ کی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے چند گھنٹے بعد ہی مضبوط اور مناسب جواب دینے کا وعدہ کیا۔ تہران نے ان پابندیوں کو "غیر قانونی" قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قومی حقوق اور مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا اور اپنے عوام کے مفادات اور حقوق کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام کا سختی اور مناسب جواب دے گا۔ بیان میں ایرانی وزارت خارجہ نے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی مذمت کی اور اسے قانونی عمل کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ اس نے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پر عمل درآمد نہ کریں۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے مطابق ایران واحد غیر جوہری ریاست ہے جو یورینیم کو 60 فیصد تک کی اعلیٰ سطح تک افزودہ کرتی ہے۔ یہ ایٹمی بم بنانے کے لیے درکار تکنیکی حد 90 فیصد کے قریب کی شرح ہے۔ اگست کے آخر میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل یورپی یونین کی ٹرائیکا نے سنیپ بیک میکانزم کو محترک کیا۔ یہ میکانزم ایران پر پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ 2015 کے معاہدے کے بعد ایران پر سے پابندیاں ہٹا دی گئی تھیں۔ ہفتے کے روز ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس فیصلے کے نافذ ہونے سے پہلے تہران نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ سے اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا۔
اس سے قبل اتوار کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی تاکہ تہران پر دوبارہ عائد پابندیوں کے نفاذ کے طریقہ کار کو فعال ہونے سے روکا جا سکے۔ گوتیرس کو لکھے گئے خط میں اور پلیٹ فارم ’’ ایکس ‘‘پر شائع بان میں عراقچی نے لکھا کہ ہم آپ سے پابندیوں کے طریقہ کار کو دوبارہ فعال کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا تہران اقوام متحدہ کی پابندیوں کو بڑھانے، دوبارہ فعال کرنے یا دوبارہ نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش کو تسلیم نہیں کرے گا۔ ایران پر اس کے جوہری پروگرام پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کا ایک مجموعہ اتوار کی صبح دوبارہ نافذ کر دیا گیا۔ یہ پابندیاں برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل ٹرائیکا کے اقدام کے بعد دوبارہ لگائی گئیں۔ ٹرائیکا نے تہران پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہونے کا الزام لگاتے ہوئے معاہدے کے سنیپ بیک میکانزم کو فعال کیا تھا۔