اتوار کی صبح ایران پر اس کے جوہری پروگرام کے پس منظر میں اقوامِ متحدہ کی طرف سے کئی پابندیوں دوبارہ عائد کی گئیں، جو اس سے پہلے 2015 کے معاہدے کے تحت ہٹا دی گئی تھیں۔
یہ پابندیاں دوبارہ اس وقت عائد کی گئیں جب تین ملکوں پر مشتمل گروپ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے معاہدے میں شامل ’ٹریگر میکزم' کو فعال کیا، اور تہران پر اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام لگایا۔
ذیل میں اس طریقہ کار کے بارے میں کچھ اہم حقائق دیے جا رہے ہیں جسے ’اسنیپ بیک‘ کہا جاتا ہے:
پابندیوں کا ہدف کیا ہے؟
یہ پابندیاں ان کمپنیوں، تنظیموں اور افراد کو نشانہ بناتی ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام یا اس کے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں حصہ لیتے ہیں۔ سامان، مہارت یا مالی معاونت فراہم کرنا پابندیوں میں شامل ہوتا ہے۔
معیشت کا بڑا حصہ متاثر ہوا
پابندیوں میں روایتی ہتھیاروں پر پابندی بھی شامل ہے، جس کے تحت ایران کو کسی بھی قسم کے ہتھیاروں کی فروخت یا منتقلی ممنوع ہے۔
ان پابندیوں کے تحت ایران کے جوہری اور بیلسٹک پروگرام سے متعلق اجزاء یا ٹیکنالوجی کی درآمد، برآمد یا منتقلی پر پابندی عائد ہے۔
اسی طرح بیرونِ ملک موجود ان اداروں اور افراد کے اثاثے بھی منجمد کر دیے جاتے ہیں جو ایران کی اُن شخصیات یا گروپوں سے وابستہ ہیں ،جن کا تعلق جوہری پروگرام سے ہے۔
ایسے افراد جو ممنوعہ جوہری سرگرمیوں میں حصہ لینے والے قرار دیے گئے ہیں، ان کا اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک میں سفر کرنا ممنوع ہے۔
اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک پر بھی لازم ہو گا کہ وہ ایسے بینکنگ اور مالی مراکز تک رسائی محدود کریں جو ایران کے جوہری اور بیلسٹک پروگرام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں کسی بھی شخص کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے جو پابندیوں کے نظام کی خلاف ورزی کرے۔
یورپی ممالک کی الگ پابندیاں
اب یورپی یونین کی طرف سے مقرر کردہ علیحدہ پابندیاں بھی دوبارہ عائد کی جا سکتی ہیں، ان کے ساتھ بین الاقوامی پابندیاں بھی نافذ رہیں گی۔
پابندیوں کا مقصد ایران کی معیشت پر اثر ڈالنا ہے، تاکہ نہ صرف اس کے جوہری پروگرام کو روکا جا سکے بلکہ تہران پر مالی دباؤ ڈال کر اسے قوانین کی پابندی پر مجبور کیا جا سکے۔
مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کر سکتا ہے، جبکہ تہران سختی سے ان خدشات کی تردید کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو شہری مقاصد کے لیے ترقی دینے کے حق کا دفاع کرتا ہے۔
اس سے پہلے، امریکہ نے ایران پر اپنی مخصوص پابندیاں دوبارہ نافذ کی تھیں، جن میں دیگر ممالک کے لیے ایران کا تیل خریدنا بھی ممنوع تھا، یہ اقدامات اس وقت کیے گئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارت میں جوہری معاہدے سے واپس لے لیا تھا۔
سنیپ بیک میکانزم پر عمل درآمد کا طریقہ کار؟
یہ طریقہ کار اقوامِ متحدہ کے فیصلوں کو دوبارہ فعال کرتا ہے، لیکن عملی طور پر اسے نافذ کرنے کے لیے رکن ممالک کو اپنے قوانین کو اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ اس کے مطابق ہوں۔
فیصلہ کرنے کا اختیار یورپی یونین اور برطانیہ کے پاس ہوگا کہ وہ قانون سازی کو آگے بڑھائیں تاکہ پابندیوں کو نافذ کیا جا سکے، تاہم ابھی تک دونوں میں سے کسی نے اس عمل کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
پابندیاں کس طرح عائد کی جاتی ہیں؟
سلامتی کونسل کے فیصلے اور ان سے منسلک پابندیاں لازمی ہوتے ہیں، لیکن اکثر اوقات ان کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا چین اور روس جیسے ممالک، جو ’ٹریگر میکنزم‘ کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں، پابندیوں کی تعمیل نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔
کچھ ممالک، جن میں چین بھی شامل ہے، امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یورپی طاقتیں توقع کرتی ہیں کہ روس پابندیوں کی تعمیل نہیں کرے گا، لیکن بیجنگ کا ردعمل، جو ایران سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتا ہے، ابھی واضح نہیں ہے۔
سوربون یونیورسٹی سے منسلک ’انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ایرانی اسٹڈیز‘ کے محقق کلیمان تیرم نے کہا: ’پابندیوں سے بچنے کی ایک قیمت ہے، سیاسی قیمت، لیکن ساتھ ہی مالی اور اقتصادی قیمت بھی، کیونکہ مالی لین دین اب زیادہ مہنگا ہو گیا ہے۔‘
شپنگ کمپنیاں ان کاروباروں میں شامل ہیں، جو اس سے کافی حد تک متاثر ہوں گی۔
ترم نے کہا: "اقوام متحدہ کی پابندیوں کے حوالے سے، بظاہر مکمل بندش نہیں ہوگی، بلکہ صرف لاگتوں میں اضافہ ہو گا۔"