ایران کا یو این سیکرٹری جنرل سے سنیب بیک پابندیوں کا نفاذ روکنے کا مطالبہ

ایرانی وزیر خارجہ نے مغربی ممالک اور امریکہ پر تہران سے بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی نے اتوار کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس سے درخواست کی کہ وہ تہران پر دوبارہ عائد کی گئی پابندیوں کے نفاذ کے میکانزم کو فعال ہونے سے روکیں۔

عراقجی نے مسٹر گوتیریس کو ''ایکس'' سوشل پلیٹ فارم پر دے گئے پیغام میں زور دیا ہے کہ وہ پابندیوں کے کسی بھی نفاذ کے اقدام کو روکیں، بشمول کمیٹی برائے پابندیاں اور ماہرین کی ٹیم۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران اقوام متحدہ کی پابندیوں کے کسی بھی توسیع، دوبارہ نفاذ یا عائد کرنے کی کوشش کو تسلیم نہیں کرے گا۔

اتوار کی صبح ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کا ایک بیکج دوبارہ عائد کیا گیا، جو اس کے جوہری پروگرام کے پیشِ نظر تھا اور پہلے 2015 کے معاہدے کے تحت ہٹایا گیا تھا۔

پابندیاں اس وقت دوبارہ عائد کی گئیں جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے معاہدے میں درج ''ٹرگر میکانزم'' کو فعال کیا، اور تہران پر اس کے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگایا۔

منصفانہ اور متوازن معاہدہ

ایران کے جوہری پروگرام کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد ہونے سے چند گھنٹے قبل، عراقجی نے اپنی ملک کی واضح اور پختہ پوزیشن پر زور دیا، اور تہران کی کوشش پر اصرار کیا کہ وہ ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے تک پہنچے۔

عراقجی نے نیویارک سے ایرانی نیوز نیٹ ورک ''خبَر'' کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا:ہمیں اپنے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت پر کوئی شک نہیں ہے، اور ہم اعتماد قائم کرنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ ایرانی عوام کے یورینیم کی افزودگی کے قطعی حق کو تسلیم کیا جائے۔

انہوں نے مغربی ممالک اور امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ٹریگر میکانزم کو فعال کرکے ایران کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

غیر قابل قبول درخواست

پہلے ہفتے کے دن، ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے انکشاف کیا کہ تہران یورپی ممالک کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچ گیا تھا، لیکن امریکی موقف مختلف تھا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے تہران سے پابندیاں اٹھانے کی مدت بڑھانے کے بدلے تمام افزودہ یورینیم کا ہرجانہ طلب کیا

بزشکیان نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، کہ امریکہ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اپنا تمام افزودہ یورینیم انہیں دے دیں، بدلے میں صرف تین ماہ کے لیے پابندیوں میں چھوٹ ملے… یہ ہر صورت میں ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چند ماہ بعد وہ نئی مطالبات کریں گے اور دوبارہ کہیں گے کہ وہ پابندیوں کے میکانزم کو فعال کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران کو ان غیر منطقی مطالبات اور'' سناب بیک'' کے میکانزم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ دوسرا یعنی'' سناب بیک ''کو چنے گا۔

غیر سنجیدہ ٹرمپ انتظامیہ

بزشکیان نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف معاہدے سے کبھی بھی دستبردار ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا، چاہے اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کیوں نہ کی جائیں جیسا کہ توقع کی جا رہی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سلسلے میں مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جوہری مذاکرات میں سنجیدہ نہیں دکھائی دی، بشمول وہ مذاکرات جو اسرائیلی حملے سے پہلے ہوئے تھے۔

یہ بیانات اس کے بعد آئے جب جمعہ کو روس اور چین کی کوشش ناکام ہو گئی کہ ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس میں مؤخر کیا جائے، کیونکہ صرف 4 ممالک نے اس کی حمایت کی، جس سے ''ٹرگر میکانزم'' کے راستے کو ہموار کر دیا گیا۔

البتہ یہ بیان اس کے ساتھ آیا کہ تہران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی تاریخ بھی دی، جس کے ساتھ اس نے نو ستمبر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک نیا معاہدہ کیا تھا۔

بھرپور رابطے

یاد رہے کہ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بڑھ گئی تھیں، خاص طور پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور ایرانی صدر کے درمیان، تاکہ پابندیوں کے مسئلے پر کوئی تصفیہ کیا جا سکے اور نیا معاہدہ طے پایا جا سکے، لیکن یہ کوشش ناکام رہی۔

اس کے باوجود، میکرون نے بدھ کو بزشکیان سے ملاقات کے بعد کہا کہ اب بھی معاہدہ طے کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے صرف چند گھنٹے باقی ہیں۔

یورپی ٹروئیکا ممالک (جرمنی، فرانس اور برطانیہ) تہران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو بنیادی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی فراہم کریں۔

ساتھ ہی وہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے ازسرِ نو آغاز کا شرط بھی رکھتے ہیں، اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی حفاظت کے لیے ایک میکانزم کو بھی اپنانے کا تقاضا کرتے ہیں۔

جبکہ تہران ان شرائط کو غیر منصفانہ اور ان پر دباؤ ڈالنے کے مترادف سمجھتاہے، اور اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں