اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد ، ایرانی ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح پر

ایک ڈالر کی قیمت 11 لاکھ 20 ہزار ریال تک پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی ریال نے اتوار کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح ریکارڈ کی۔ یہ گراوٹ اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ بات کرنسیوں پر نظر رکھنے والی کئی ویب سائٹوں نے آج اتوار کے روز بتائی۔

اوپن مارکیٹ کے نرخوں کے مطابق ایک امریکی ڈالر تقریباً 11 لاکھ 20 ہزار ایرانی ریال میں فروخت ہو رہا تھا۔ پابندیوں کے دوبارہ فعال ہونے سے قبل، جب فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے (Snapback Mechanism) شروع کیا، اُس وقت ایک ڈالر کی قیمت دس لاکھ ریال سے کچھ زیادہ تھی۔ یہ بات خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتائی۔

ایران نے اتوار کو اقوام متحدہ کی جانب سے اپنے اوپر عائد پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی مذمت کی ہے، جو دس سال بعد بحال کی گئی ہیں۔ یہ اقدام تہران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے تعطل کے بعد کیا گیا۔ پابندیاں ہفتے کو اس وقت خودکار طور پر دوبارہ نافذ ہو گئیں جب جوہری مذاکرات ناکام ہو گئے، تاہم یورپی ممالک اور امریکا نے کہا کہ اس کا مطلب سفارت کاری کا خاتمہ نہیں ہے۔

یہ پابندیاں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام سے متعلق تمام لین دین پر پابندی عائد کرتی ہیں، ساتھ ہی دیگر سخت اقدامات بھی شامل ہیں۔ یہ پابندیاں نیویارک کے وقت کے مطابق رات 8 بجے (گرینچ کے مطابق اتوار کی نصف شب) خود کار طور پر دوبارہ نافذ ہو گئیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان کا ایرانی معیشت پر وسیع اثر پڑے گا۔

ایران کے جوہری پروگرام نے تہران اور مغربی دارالحکومتوں کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مغربی ممالک اور اسرائیل کو شبہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُر امن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ "اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قومی حقوق اور مفادات کا پوری قوت سے دفاع کرے گی اور اپنی قوم کے مفادات یا حقوق کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی کا سخت اور مناسب جواب دے گی"۔ وزارت نے ان پابندیوں کے دوبارہ فعال کرنے کو "قانونی عمل کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بھی کوشش "باطل اور غیر قانونی" ہے۔ ایرانی وزارت نے دیگر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پر عمل درآمد نہ کریں۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق ایران واحد غیر ایٹمی ملک ہے جو یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کر رہا ہے، جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فی صد کی حد کے قریب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں