غزہ میں حماس مخالف پاپولر فورسز ملیشیا کے لیے اسرائیل کی متنازعہ حمایت کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ (سکرین شاٹ/ٹک ٹاک/سکائی نیوز)
اسرائیل غزہ کی حماس مخالف ملیشیا کی معاونت کرتا ہے: سکائی نیوز کے نئے انکشافات
پاپولر فورسز غزہ کی آئندہ حکمرانی میں کردار کی خواہشمند، اسرائیل کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش
غزہ میں حماس مخالف پاپولر فورسز ملیشیا کے لیے اسرائیل کی متنازعہ حمایت کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں جس میں اس گروپ کو ہتھیاروں کی فراہمی اور فضائی حملوں کے ساتھ اس کی جنگی کارروائیوں میں معاونت شامل ہیں۔
لوٹ مار کرنے والے ایک سابق گروہ کے سربراہ یاسر ابو شباب کے زیرِ قیادت ملیشیا غزہ کی مستقبل کی حکمرانی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے خود کو پوزیشن میں لا رہی ہے۔
سکائی نیوز کے ڈیٹا اور فرانزک یونٹ کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ملیشیا کو امریکی امداد سے چلنے والی غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن سے امداد مل رہی ہے اور انہیں اسرائیلی دفاعی افواج نے فلسطینی انکلیو میں نقدی، بندوقیں اور گاڑیاں سمگل کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ گروپ کے لیے اسرائیل کی حمایت تقسیم اور فتح کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس طرح تل ابیب نے پہلے الفتح کے خلاف جوابی کارروائی کے طور پر حماس کی حمایت کی تھی۔
سکائی ٹیم نے کئی مہینوں تک ابو شباب اور ان کے ساتھیوں کی نقل و حرکت کا تعاقب کیا۔ سکائی نے رپورٹ کیا کہ ملیشیا جنوبی غزہ میں کافی حد تک محفوظ اور ایک غیر تباہ شدہ علاقے سے کام کرتی ہے جہاں "کھانے کی کافی فراہمی، طبی سہولیات، ایک سکول حتیٰ کہ ایک مسجد بھی موجود ہے"۔
پاپولر فورسز کے مرکز میں اب تقریباً 1,500 لوگ بشمول 500-700 جنگجو رہ رہے ہیں جن میں سے اکثر نے حالیہ ہفتوں میں بھرتی مہم کے ایک حصے کے طور پر شمولیت اختیار کی ہے۔ مجموعی طور پر ملیشیا اور اس کے اتحادیوں کے پاس غزہ میں تقریباً 3000 جنگجو موجود ہیں۔
یہ مرکز اس راستے پر واقع ہے جہاں سے امدادی ٹرک کرم شالوم راہداری کے ذریعے انکلیو میں داخل ہوتے ہیں جس سے پاپولر فورسز کو امدادی سامان لوٹنے کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔
گذشتہ نومبر میں اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ ابو شباب اور اس کا گروہ "قافلوں کی منظم اور وسیع پیمانے پر لوٹ مار کے پیچھے سب سے زیادہ بااثر گروہ کے طور پر کام کرتا ہے۔"
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس گروپ کی نقد آمدنی کا بنیادی ذریعہ سگریٹ کی سمگلنگ تھا جبکہ اسرائیل نے غزہ میں تمباکو کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی جس سے بعض صورتوں میں ایک سگریٹ کی قیمت 20 ڈالر تک بڑھ گئی تھی۔
ایک امدادی کارکن نے سکائی کو بتایا: "ابو شباب کو سگریٹ کی سمگلنگ سے طاقت ملی۔ اس قسم کے محدود کردہ ماحول میں آپ کو ابو شباب ہی ملتے ہیں۔"
ملیشیا کے رکن حسن ابو شباب نے سکائی کو بتایا کہ حماس نے ان کے درجنوں ساتھی جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا جس کے بعد اسرائیل نے متنازعہ جی ایچ ایف کو پاپولر فورسز کے مرکز کو غذائی امداد فراہم کرنے کی اجازت دینا شروع کر دی۔
اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی اور نارویجن ریفیوجی کونسل کے عہدیداروں نے سکائی کو بتایا کہ مسلح گروپ کو امداد کی فراہمی انسانی قوانین اور غیر جانبداری کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔
دفاعی افواج کے ایک فوجی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سکائی کو بتایا کہ اسرائیلی فوج یاسر ابو شباب اور اس کے ساتھیوں کو اسلحہ فراہم کر رہی ہے۔
"اسرائیل اس کی مدد کرتا ہے۔ اسے گرینیڈ، پیسے، گاڑیاں اور کھانا دیتا ہے۔ ہر قسم کی چیزیں دیتا ہے۔" سپاہی نے کہا۔
ٹک ٹاک پر پاپولر فورسز کے ارکان کی شائع کردہ ویڈیوز میں ملیشیا کی گاڑیوں کا بیڑا دکھایا گیا ہے جن میں سے اکثر پر اسرائیلی لائسنس والی نمبر پلیٹیں لگی ہیں۔
سکائی کو ملنے والے شواہد سے پتا چلا ہے کہ حماس مخالف کارروائیوں میں ملیشیا اور اسرائیلی فضائیہ کے درمیان قریبی ہم آہنگی ہے۔
رفح میں ملیشیا کے مرکز کے جنوب میں 13 اپریل کو حماس کے مزاحمت کاروں نے پاپولر فورسز کے ایک یونٹ پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جس گھر پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا، وہ ایک دن بعد اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ہو گیا۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے سینئر تجزیہ کار امجد عراقی نے کہا، ملیشیا کے لیے اسرائیل کی معاونت فلسطینیوں کی مزاحمت کو قابض فوج کے خلاف مزید مشکل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
"خیال یہ ہے کہ آپ کسی خاص (دھڑے) کی بالادستی کو جتنا زیادہ ختم کر سکیں، معاشرے کے لیے قابض فوج کے خلاف مزاحمت کرنا اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے،" انہوں نے سکائی کو بتایا۔
لندن کی کوئین میری یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر نیوی گورڈن نے چینل کو بتایا: "نظریہ یہ ہے کہ کوشش کر کے غزہ کو مختلف حصوں میں جنگجو گروہوں کے زیرِ قبضہ سرزمین میں تبدیل کر دیا جائے تاکہ فلسطینیوں میں کوئی اتحاد باقی نہ رہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان ممالک کا کیا حال ہوتا ہے جو جنگجوؤں میں منقسم ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ اندرونی لڑائیاں اکثر سالوں یا عشروں تک جاری رہتی ہیں۔"