حماس نے غزہ کے بعد کے انتظامات پر اصولی رضامندی ظاہر کر دی ہے:امریکی وزیرِ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے متعلق بالواسطہ مذاکرات کی تیاری جاری ہے ۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ "حماس نے اصولی طور پر جنگ کے بعد کے انتظامات پر رضامندی ظاہر کر دی ہے"۔

مارکو روبیو نے مزید کہا کہ "ہم بہت جلد جان لیں گے کہ آیا حماس واقعی سنجیدہ ہے یا نہیں"۔

اتوار کے روز جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا غزہ کی جنگ جلد ختم ہو جائے گی، تو انہوں نے بتایا کہ "اسرائیل اور حماس کے درمیان سمجھوتے سے متعلق بات چیت جاری ہے"۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ "اس معاملے سے متعلق تمام لاجسٹک تفصیلات بہت جلد مکمل ہو جائیں گی"۔

" دوسرا مرحلہ مشکل ہے"

روبیو نے اس موقع پر وضاحت کی کہ غزہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ یعنی حماس سے اسلحہ واپس لینا اور اسرائیلی افواج کا انخلا آسان نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ"جب حماس غزہ سے نکل جائے گی، تو ہمیں علاقے کی انتظامیہ تشکیل دینے میں کچھ وقت لگے گا۔ غزہ کے نظم و نسق کا ایسا ڈھانچہ تین دن میں قائم نہیں کیا جا سکتا جس میں حماس شامل نہ ہو"۔

قیدیوں کی رہائی سے متعلق سوال پر روبیو نے کہا کہ "ہماری کوشش ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی جتنی جلد ممکن ہو، عمل میں آ جائے"۔

اسرائیلی وفد کی قاہرہ روانگی

اسی دوران اسرائیلی حکومت کی ایک ترجمان نے اعلان کیا کہ "اسرائیلی مذاکرات کار آج رات مصر روانہ ہوں گے، جہاں کل قیدیوں کی رہائی کے مذاکرات متوقع ہیں"۔

مصری وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز تصدیق کی تھی کہ قاہرہ 5 اور 6 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے وفود کی میزبانی کرے گا، تاکہ تمام اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے انتظامات طے کیے جا سکیں۔

العربیہ اور الحدث کے مطابق اسرائیلی وفد کی قیادت وزیرِ برائے تزویراتی امور رون ڈرمَر کریں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وِٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جارڈ کُشنر بھی مصر پہنچ چکے ہیں تاکہ قیدیوں کی رہائی کے عمل کے حتمی نکات طے کیے جا سکیں۔

"ٹرمپ پلان" کی تفصیلات

گذشتہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی اور امن کی بحالی کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔

اس منصوبے میں فوری طور پر تمام اسرائیلی قیدیوں اور لاشوں کی واپسی کے بدلے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کی تجویز دی گئی۔

منصوبے کے مطابق اسرائیلی افواج کا غزہ سے بتدریج انخلا کیا جائے گا (بغیر کسی مخصوص ٹائم فریم کے)، غزہ سے مکمل طور پر اسلحہ ہٹایا جائے گا اور حماس کو انتظامیہ سے الگ رکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ، ایک عبوری "انتظامی اتھارٹی" تشکیل دی جائے گی جو بین الاقوامی نگرانی میں غزہ کا انتظام سنبھالے گی اور بعد ازاں فلسطینی اتھارٹی اس ذمہ داری کو سنبھالے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size