غزہ میں گرفتار اسرائیلی خاتون کی لاش ریڈ کراس کے حوالے کردی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ریڈ کراس کی ٹیموں نے غزہ میں گرفتار ایک اسرائیلی خاتون یرغمالی کی لاش وصول کر لی ہے۔

بنجمن نیتن یاھو نے آج صبح اس بات کا الزام عائد کیا کہ فلسطینی جہاد اسلامی نے غزہ میں ایک قیدی کی باقیات کے حوالے میں تاخیر کر کے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ نیتن یاھو کے دفتر کے بیان میں کہا گیا کہ "جہاد اسلامی کا یہ اعلان کہ ایک قیدی کی باقیات ملی ہیں اور اس کی واپسی میں تاخیر معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے"۔

اسرائیل نے مزید زور دیا کہ وہ اب بھی غزہ میں موجود تین لاشوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

دوسری طرف حماس اور جہاد اسلامی نے یقین دلایا کہ وہ اسرائیلی قیدی کی لاش آج شام تک ریڈ کراس کے حوالے کریں گی اور یہ عمل فائر بندی کے امریکہ کی نگرانی میں کیے گئے معاہدے کے مطابق ہوگا۔

قیدی کی باقیات کی دریافت

گذشتہ روز اسلامی جہاد کے عسکری ونگ سرايا القدس نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایک قیدی کی باقیات اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول علاقے میں دریافت کی ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے یہ لاش وسطی غزہ میں اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں میں تلاش اور کھدائی کے دوران پائی، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں"۔

اکتوبر میں طے پانے والے سیز فائر کے معاہدے کے مطابق حماس 28 ہلاک شدہ قیدیوں کی باقیات اسرائیل کو واپس کرنے کی پابند ہے۔

اس کے بدلے میں اسرائیل ہر لاش کے بدلے غزہ کے 15 شہریوں کی باقیات مقامی حکام کو واپس کرے گا۔

اب تک حماس نے 28 میں سے 25 لاشیں واپس کر دی ہیں، جبکہ تین (دو اسرائیلی اور ایک تھائی) کی تلاش جاری ہے۔

یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر خدشات پیدا کر رہا ہے کہ یہ غزہ میں دوسری مرحلے کی ہدایت اور متاثرہ علاقے کی تعمیر نو کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے، جو اسرائیلی جارحیت کی دو سالہ سفاکیت کے بعد کی صورت حال ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں