غزہ میں بارشوں سے بے گھر افراد کے خیمے ڈوب گئے … المیہ مزید سنگین ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ کی پٹی بالخصوص خان یونس کے علاقے المواصی میں آج منگل کے روز ہونے والی موسلا دھار بارش نے درجنوں خیموں کو ڈبو دیا جن میں بے گھر فلسطینی رہائش پذیر ہیں۔ بارش کے پانی میں غرق ہونے والے یہ خیمے خان یونس کے نواح میں قائم اُن کیمپوں کا حصہ تھے جہاں حالات پہلے ہی نہایت سنگین تھے اور یہ صورت حال مقامی آبادی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے صفا کے مطابق امدادی ٹیموں نے مختلف علاقوں میں ڈوبنے والے خیموں سے متاثرہ افراد کی مدد کی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی 15 نومبر کو ہونے والی بارشوں سے ہزاروں خیمے پانی میں ڈوب گئے تھے۔

غزہ کی پٹی اس وقت ایک نئے موسمی نظام کی زد میں ہے جو پیر کی شب سے گرج چمک اور شدید بارشیں لے کر آیا ہے۔

دو سال کی تباہ کن جنگ کے بعد علاقہ مسلسل بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال کا سامنا کر رہا ہے۔ خوراک اور طبی امداد لے کر آنے والے ٹرکوں کی تعداد نا کافی ہے اور تباہی کا پھیلاؤ پورے علاقے میں واضح ہے۔

اس دوران 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ اسرائیلی افواج نے تب سے اب تک درجنوں فضائی حملے کیے ہیں، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ "حماس تنظیم کے عناصر" کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

اسی طرح جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے جاری مذاکرات بھی مشکل ترین مرحلے میں پھنسے ہوئے ہیں اور کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔

بتایا جاتا ہے کہ غزہ کی پٹی کا تقریباً 80 فی صد حصہ مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

مزید برآں دو لاکھ پندرہ ہزار سے زائد رہائشی یونٹ یا تو مسمار ہو چکے یا شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ بجلی، پانی اور سڑکوں کا انفراسٹرکچر بھی بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

رپورٹوں کے مطابق 92 فی صد مرکزی سڑکیں اور 84 فی صد طبی مراکز تباہ یا متاثر ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ کی پٹی کی ابتدائی تعمیرِ نو پر تقریباً 70 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں