غزہ : جنگ بندی معاہدے پر عمل کمزور اور سست ، اسرائیلی فوج کی طرف سے ہلاکتوں کے واقعات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

غزہ پر قابض اسرائیلی فوج نے پیر کے روز دو مختلف واقعات میں تین فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ واقعات اسی سلسلے کی کڑی ہیں جو جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے باوجود اسرائیلی فوج کی طرف سے بار بار کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے جنگ بندی کے ساتویں ہفتے کے دوران بھی اس طرح کے واقعات جاری رکھے جانے کی وجہ سے اس امر کی ضرورت نمایاں ہوتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس معاہدے کے نفاذ کو بہتر کرنے اور خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی پیلی لکیر عملا فلسطینیوں کے لیے ایک نئی خونی لکیر بن کر رہ گئی ہے۔

پیر کے روز غزہ کی وزارت صحت نے تین ہلاکتوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا دو ہلاکتیں خان یونس کے مشرق میں اسرائیلی ڈرون حملے سے ہوئیں۔ جبکہ اس واقعے میں ایک تیسرا شخص زخمی بھی ہوگیا۔

تیسرے فلسطینی شہری کی ہلاکت کا واقعہ اسرائیلی فوج کے ٹینک سے کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں پیش آیا۔ یہ گولہ باری غزہ سٹی کے مشرقی حصے میں کی گئی۔

تاہم اسرائیلی فوج کا معمول کا بیان یہی ہے کہ اس نے ان دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے جو اس کی پیلی لکیر کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور پیلی لکیر کے اندر موجود فوجیوں کے لیے خطرہ بن کر بڑھ رہے تھے۔ اس لیے اس مشتبہ خطرے کو ختم کر دیا گیا۔

یاد رہے اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے درمیان 9 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے اور اس کا نفاذ اگلے ہی روز سے شروع ہو گیا تھا۔

اس کے باوجود کہ اس معاہدے کے کئی پہلو تفصیلات کے بغیر تھے کہ ان پر کس طرح عمل ہوگا۔ تاہم اس کا فوری نفاذ کر دیا گیا۔

اب تک اسرائیلی فوج بمباری ، ڈرون حملوں ، فائرنگ اور ٹینکوں سے گولہ باری کے نتیجے میں کم از کم 342 فلسطینیوں کو 10 اکتوبر کے بعد قتل کر چکی ہے جبکہ سینکڑوں زخمی بھی ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے تین فوجی اس دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں طرف سے فریقین جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی خلاف ورزیاں بڑی واضح اور غیر معمولی طور پر زیادہ ہیں۔

پچھلے ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کی تائید کرتے ہوئے قرارداد منظور کی ہے۔ اس منصوبے میں غزہ کے لیے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک عبوری حکومت کے لیے کہا گیا ہے۔ اسی طرح ایسے 'کوڈ آف پیس' کی تجویز کو حمایت دی گئی ہے جو عبوری حکومت کے معاملات کی نگرانی کرے گا اور اسے اس بین الاقوامی استحکام فورس کی حمایت حاصل ہوگی جو غزہ میں امن کے لیے کوششوں میں مددگار ہوگی۔

امریکہ کے صدر ٹرمپ غزہ میں اس عبوری حکومت کے قیام کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم ہے۔


مذاکرات

اتوار کے روز سابق برطانوی وزیراعظم اور غزہ میں قائم ہونے والی عبوری حکومت اور انتظامات کے بعض پہلوؤں کی نگرانی کے ذمہ دار ٹونی بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ ان کے ساتھ اس موقع پر امریکی نمائندے بھی موجود تھے۔

حسین الشیخ نے اس ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ہم نے سلامتی کونسل کی حالیہ منظور کردہ قرارداد کے سلسلے میں اگلے اقدامات پر غور کیا ہے اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت و دیگر ضروریات پر بات کی ہے۔

دوسری جانب حماس کے جلا وطن سربراہ خلیل الحیہ کے زیر قیادت ایک وفد نے مصری حکام سے بات چیت کی ہے۔ تاکہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے کے لیے پیش رفت ہو سکے۔ یہ بات حماس کے غزہ میں ترجمان حازم قاسم نے بتائی ہے۔

حازم قاسم کے مطابق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے کا راستہ کافی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ اس سلسلے میں حماس نے قاہرہ میں حکام سے بات کی ہے اور انہیں اپنی مشکلات سے آگاہ کیا ہے۔ کیونکہ مصر ان ثالث ملکوں میں شامل ہے جن کی کوششوں سے یہ جنگ بندی معاہدہ ممکن ہوا ہے۔ اس لیے مصر کو اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی جاری خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا ہے۔

حازم قاسم کے مطابق اسرائیلی خلاف ورزیاں معاہدے کو کمزور کر رہی ہیں۔

جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی استحکام فورس لازما حماس کو غیر مسلح کرے گی۔ اس سلسلے میں حماس کے ترجمان نے کہا ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بین الاقوامی استحکام فورس اسرائیلی فوج کی بمباری، فائرنگ اور گولہ باری سے فلسطینیوں کو بچانے کے لیے کیا کردار ادا کرے گی اور کس طرح اسرائیلی فوج کو فلسطینیوں سے دور رکھے گی۔

حماس کے ایک ذمہ دار نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا اس سلسلے میں وضاحت اور بین الاقوامی فورس کا اختیار نمایاں کیا جانا چاہیے تاکہ فلسطینیوں کو تحفظ ملے۔ کیونکہ اس سلسلے میں کافی ابہام پایا جاتا ہے اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ غزہ میں تعینات ہونے والی فورسز کس قسم کی ہوں گی اور ان کے ذمے کیا کام ہوگا اور انہیں کہاں تعینات کیا جائے گا۔

فلسطینی رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی سیاسی لائحہ عمل کے بغیر غزہ میں فورسز کا تعینات کیا جانا اور فلسطینی گروپوں کے ساتھ بغیر کسی افہام و تفہیم کے بین الاقوامی فورسز کو غزہ میں متعین کرنا چیزوں کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں