غزہ کے معاہدے کی دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت میں سست روی نظر آ رہی ہے اور اس دوران اسرائیلی خلاف ورزیوں کا سلسہ جاری ہے۔ ادھر 21 ممالک کے نمائندے جن میں تحقیق، منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس کی ٹیمیں بھی شامل ہیں ... جنوبی اسرائیل کے شہر کریات جات میں قائم امریکی کمان کے ہیڈکوارٹر میں غزہ کے مستقبل کے واضح منظر نامے تیار کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت آحرونوت کے مطابق اس پوری مشق کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی استحکام فورس تیار کی جائے جس کے بارے میں تصور یہ ہے کہ وہ حماس تنظیم کو غیر مسلح کرے گی۔
چھ مختلف ٹیمیں تحقیق، منصوبہ بندی، رہنمائی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں روزانہ صبح ہیڈکوارٹر کی تیسری اور آخری منزل پر جمع ہوتی ہیں، تاکہ غزہ کے مستقبل کا نقشہ تیار کیا جا سکے۔
یہ ٹیمیں علاقے کو بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے لیے تیار کرنے پر بحث کر رہی ہیں، جن میں یہ معاملات شامل ہیں : اس فوج کے پاس کس نوعیت کے ہتھیار ہوں گے،وہ کہاں تعینات ہو گی، اسرائیلی فوج کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ٹکراؤ کو کیسے روکا جائے، وائرلیس کمیونیکیشن کا نظام کیسا ہو، فورس کی وردی کا رنگ کیا ہو۔
ساتھ ہی ان مشکل ذمہ داریوں پر بھی گفتگو ہو رہی ہے، جیسے غزہ میں باقی رہ جانے والی سرنگوں کا سراغ لگا کر انہیں تباہ کرنا، اور اسلحہ اکٹھا کرنا ... خواہ معاہدے کے تحت ہو یا طاقت کے ذریعے۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے قانونی ماہرین اس مجوزہ فورس کے اختیارات پر امریکی مرکزی کمان کے ماہرین سے تفصیلی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
یدیعوت آحرونوت کے مطابق یہ بین الاقوامی فورس غزہ کے اندر قائم ایک اڈے میں تعینات ہو گی، نہ کہ اس کے باہر۔
ادھر سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر گذشتہ اتوار مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے سینئر رہنما اور فسلطینی نائب صدر حسین الشیخ سے ملے۔ یاد رہے کہ بلیئر نے امریکہ کے ساتھ مل کر امن منصوبے کی تشکیل میں مدد دی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ بلیئر "امن کونسل" میں شامل ہو سکتے ہیں.
حسین الشیخ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ملاقات میں سلامتی کونسل کے فیصلے کے بعد کی صورتِ حال اور "حقِ خود ارادیت اور ریاست کے حصول کے لیے بنیادی تقاضوں" پر گفتگو ہوئی۔
اس دوران غزہ میں حماس تنظیم کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ حماس کا ایک وفد ... جس کی قیادت خلیل الحیہ کر رہے ہیں، قاہرہ میں مصری حکام کے ساتھ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ بات روئٹرز خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔
ترجمان نے یہ اعتراف بھی کیا کہ دوسرے مرحلے کے راستے "بہت پیچیدہ" ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ تحریک نے مصر کو ... جو اس جنگ کو ختم کرانے والے اہم ثالثوں میں سے ہے ... آگاہ کیا ہے کہ اسرائیلی خلاف ورزیاں جنگ بندی معاہدے کو کمزور کر رہی ہیں۔
قاہرہ مذاکرات سے با خبر ایک فلسطینی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ صورت حال پر مکمل غیر یقینی کیفیت چھائی ہوئی ہے"۔
عہدے دار نے کہا "امریکیوں کے پاس کوئی واضح یا تفصیلی منصوبہ نہیں۔ نہ یہ واضح ہے کہ یہ فورس کیسی ہو گی، اس کے فرائض کیا ہوں گے اور یہ کہاں تعینات ہو گی۔"
عہدے دار نے یہ بھی کہا کہ "کوئی بھی بین الاقوامی فورس بغیر سیاسی عمل کے اور غزہ کی تمام فلسطینی جماعتوں کے اتفاقِ رائے کے بغیر تعینات کی گئی تو صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔"
بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تشکیل اور اس کے اختیارات پر اتفاقِ رائے حاصل کرنا اس وقت سب سے زیادہ مشکل معاملہ بنا ہوا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کثیر القومی فورس حماس تنظیم کو غیر مسلح کرے جبکہ حماس اس شرط کو فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔ یہ وہ قدم ہے جو ٹرمپ منصوبے کے مطابق آخری مرحلے میں شامل ہے، مگر اسرائیل اسے تسلیم نہیں کرتا۔