نیتن یاہو جنوبی شام میں

شام کے ساتھ کسی مفاہمت یا سمجھوتے تک نہیں پہنچے : نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق وہ دمشق کے ساتھ کسی مفاہمت یا سمجھوتے تک نہیں پہنچے۔ یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی شام میں اسرائیلی دراندازیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اگرچہ امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان حالات کو پُرسکون بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

منگل کے روز نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں اُن خبروں کی تردید کی گئی ہے جن میں حال ہی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گذشتہ ستمبر میں اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکہ کی ثالثی سے تیار ہونے والے ایک سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ امریکی سرپرستی میں متعدد رابطے اور ملاقاتیں تو ہوئیں، مگر وہ کبھی بھی کسی معاہدے یا مفاہمت تک نہیں پہنچیں۔

چند روز قبل شامی صدر احمد الشرع نے اسرائیل کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا کہ جنوبی شام میں ایک غیر فوجی (اسلحے سے خالی) علاقہ قائم کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ مطالبہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

الشرع نے تل ابیب پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے بعد اپنے بحران دوسرے ممالک کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شامی صدر کے مطابق گذشتہ برس 8 دسمبر سے اب تک اسرائیلی افواج ایک ہزار سے زائد فضائی حملے اور 400 زمینی دراندازیاں کر چکی ہیں۔

گذشتہ سال شام کی سابقہ حکومت کے سقوط کے بعد سے اسرائیل نے جنوبی شام میں اپنی فوج اور عسکری ساز و سامان تعینات کر رکھا ہے۔ اس نے 1974 کے غیر فوجی بفرزون سے بھی تجاوز کیا ہے، جس میں جبل الشیخ کا تزویراتی مقام بھی شامل ہے۔ اس کے برعکس نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ وہ "دمشق سے جبل الشیخ تک ایک غیر فوجی علاقہ" بنانا چاہتے ہیں، جسے شامی حکومت نے واضح طور پر مسترد کر دیا۔

امریکی ثالثی میں شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ہونے والے بات چیت کے چھ ادوار بھی کسی سکیورٹی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس کا مقصد سرحدی علاقے میں استحکام لانا تھا، جبکہ بات چیت کا سلسلہ گذشتہ ستمبر 2025 سے رکا ہوا ہے۔ یہ بات روئٹرز نیوز ایجنسی نے بتائی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں