بشار الاسد کے زمانے میں شام پر لگائی گئی امریکہ کی سخت پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے امریکہ میں قانون سازی شروع ہوگئی ہے اور اب یہ پابندیاں اگلے چند ہفتوں میں ختم ہوجانے کا امکان ہے۔
ان پابندیوں کے خاتمے کی یہ کوشش امریکی دفاعی پالسیی کے تحت لائے گئے ایک بل کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ اس دفاعی بل پر اگلے چند دنوں میں کانگریس میں ووٹنگ متوقع ہے۔
امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں ان پابندیوں کے خاتمے کے لیے دفاعی بل کی منظوری دیں گے۔ پابندیوں کے خاتمے کی یہ کوشش شام کی معاشی بحالی کے لیے ایک کلید کا باعث بنے گی۔
اس بل کو کانگریس میں پیش کرتے ہوئے اتوار کے روز نیشنل ڈیفنس اتھورائیزیشن ایکٹ کا نام دیا گیا ہے۔
3000 صفحات پر مشتمل یہ بل 2019 میں عائد کی گئی پابندیوں کا خاتمہ کرنے کا باعث بنے گا اور اس کے بعد شامی حکومت کی داعش کے خلاف سرگرمیوں ، کوششوں اور تعاون کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس سینیٹ کو باقاعدہ رپورٹس بھیجا کرے گا۔ گویا پابندیاں ختم کرنے کے بعد سینیٹ ان پابندیوں کے بدلے میں شامی سرگرمیوں کی متواتر مانیٹرنگ کرتا رہے گا۔
ان پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں شام جہاں داعش کے خلاف کارروائیاں کرے گا وہیں اپنے ہاں نسلی اقلیتوں کے حقوق کی بجا آوری کرے گا اور کسی بھی پڑوسی ملک بشمول اسرائیل کے خلاف بلا اشتعال اور یکطرفہ جنگی کارروائی نہیں کرے گا۔
امریکی کانگریس میں 'این ڈی اے اے' کے نام سے یہ بل اسی مہینے کے اختتام سے پہلے منظور کیے جانے کی توقع ہے۔ بعد ازاں اس بل پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ دستخط کریں گے تو یہ قانون بن جائے گا۔
یاد رہے کانگریس کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کی ریپیبلیکن پارٹی کی اکثریت ہے۔
شام کی حکومت ان پابندیوں کے خاتمے کو اپنی ایک بڑی کامیابی سمجھ رہی ہے جس کے بعد کئی سعودی کمپنیاں اربوں ڈالر کی شام میں سرمایہ کاری کریں گی اور شامی معیشت کو بحال کرنے میں مدد دیں گی۔
اس سے قبل یہ امریکی پابندیاں شام کی معاشی بحالی میں ایک بہت بڑی رکاوٹ سمجھی جا رہی تھیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پابندیوں کے خاتمے کا وعدہ شام کے نئے صدر احمد الشرع سے ماہ مئی میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا تھا۔ ان پابندیوں کے خاتمے کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری تھی۔
2019 میں سیزر ایکٹ پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ جن کے تحت شام کی مختلف شخصیات پر بھی پابندیاں لگائی گئی تھی۔ علاوہ ازیں ہر اس کمپنی اور حکومتی ادارے پر پابندیاں لگائی گئی تھیں جس کا تعلق بشار الاسد سے تھا۔
یاد رہے بشار الاسد 2000 سے 2024 دسمبر تک شامی حکومت کے سربراہ رہے ہیں۔ تاہم 8 دسمبر 2024 کو ان کی مخالف فوجی قوت نے ان کا تختہ الٹ دیا۔
شام کے مرکزی بنک کے گورنر عبدالقادر نے 'روئٹرز' کو پچھلے ہفتے بتایا تھا کہ ملکی معیشت ان توقعات سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں جو توقع کی جا رہی تھیں۔ گورنر مرکزی بنک نے امریکی پابندیوں کے خاتمے کو بھی ایک معجزہ قرار دیا تھا۔