کچھ ماہرین کو توقع تھی کہ شام میں سابقہ نظام حکومت کے سقوقط اورع صدر بشار الاسد کے ماسکو فرار ہونے کے بعد روس کے دمشق کے ساتھ تعلقات رک جائیں گے ... تاہم اس کے برخلاف اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی حد تک مستحکم ہیں۔
شامی حکام نے ماسکو کے ساتھ تعلقات میں ایران کی طرح کھلی دوری اختیار نہیں کی بلکہ گذشتہ کئی ماہ کے دوران پہلے سے طے شدہ معاہدوں کا داخلی جائزہ لیا۔ اگرچہ زیادہ تر روسی-شامی معاہدے جو بشار الاسد کے دور میں کیے گئے تھے وہ عارضی طور پر معطل کر دیے گئے، تاہم کسی اہم معاہدے کو منسوخ نہیں کیا گیا۔
روسی خبر رساں ایجنسی TASS کے مطابق شام میں روسی موجودگی برقرار ہے، جس میں حمیمیم کا فضائی اڈا اور طرطوس کا بحری اڈا شامل ہیں۔ مزید برآں اکتوبر 2025 میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان پہلا براہ راست اجلاس ہوا۔ اجلاس میں شامی صدر احمد الشرع نے کہا کہ دمشق نے "روس کے ساتھ پُر سکون تعلقات قائم رکھے ہیں" اور سکیورٹی شعبے میں بات چیت جاری رہے گی۔
اس کے باوجود ماسکو اور دمشق کے تعلقات کو مکمل طور پر ہموار نہیں کہا جا سکتا۔ شامی حکام ابھی بھی موجودہ معاہدوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہر ایک کو باریکی سے پرکھ رہے ہیں۔ یہ بات شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے پہلے بتائی تھی۔
اسی سلسلے میں مشرق وسطیٰ میں روسی سکیورٹی ماہر مکسیم نوسینکو نے اخبار "ازویستیا" سے گفتگو میں کہا کہ شامی حکومت "اپنے سابقہ حکمرانوں کی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور طاقتور ممالک کے ساتھ لچک دار تعلقات قائم کر رہی ہے، خاص طور پر وہ ممالک جو خطے کی سکیورٹی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں"۔
مرکز مطالعات مشرق وسطیٰ کے سربراہ مراد صدیق زادہ نے بتایا کہ شامی قیادت روس اور ترکیہ کی حمایت سے اپنی سکیورٹی فورسز کو تربیت اور تقویت فراہم کر رہی ہے۔ روسی کونسل برائے بین الاقوامی امور کے ماہر کیریل سیمیونووف کے مطابق "بشار کے سقوط کے بعد شام روس کا علاقائی اتحادی نہیں رہا، لیکن ماسکو نے اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی اور دمشق کے ساتھ شراکت قائم کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ شام روس کے لیے دشمن ملک نہیں ہے۔"
شامی وزیر اخرجہ اسعد الشیبانی نے پہلے بتایا تھا کہ نظام کے سقوط تک کی جنگوں کے دوران، صدر احمد الشرع نے جو اس وقت روسیوں کے ساتھ لڑائی کی قیادت کر رہے تھے، حلب کی آزادی اور حماہ پر حملے کے آغاز کے بعد روسی فوجی کو لڑائیوں سے الگ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
یاد رہے کہ 15 اکتوبر 2025 کو الشرع نے اپنا ماسکو کا پہلا سرکاری دورہ کیا، جس میں انہوں نے صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کی۔ اس دوران دوطرفہ تعاون، روسی فوجی موجودگی کی مسلسل حمایت اور دیگر اہم امور پر بات چیت کی گئی۔