امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے شام میں سابق نظام حکومت کے خاتمے کی پہلی سال گرہ کے موقع پر شامی عوام کو مبارک باد پیش کی ہے۔
منگل کے روز "ایکس" پر جاری پوسٹ میں روبیو نے لکھا "ایک سال پہلے شامی عوام نے اپنی تاریخ کا نیا باب کھولا تھا۔"
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ بین الاقوامی شراکت داروں کی مدد سے شام کی حکومت اور عوام کی جانب سے انتقالِ اقتدار کے دوران اٹھائے گئے اہم اقدامات کی تعریف کرتی ہے۔
روبیو نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن ایک پُر امن اور خوش حال شام کی حمایت کرتا ہے جو اپنی اقلیتوں کو ساتھ لے کر چلے اور اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ امن کے ساتھ رہے۔
One year ago, the Syrian people turned a new page in their history. Today, we recognize the significant steps the Syrian government and people have taken in Syria’s transition, and the support of international partners. We honor the resilience of the Syrian people and reaffirm…
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) December 8, 2025
دوسری جانب شامی صدر احمد الشرع نے پیر کو ایک خطاب کے دوران انصاف اور مشترکہ زندگی پر مبنی ایک نئے دور کا عزم ظاہر کیا۔ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اُن تمام افراد کے احتساب کے لیے پُر عزم ہیں جنہوں نے شامی عوام کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔
الشرع نے کہا "ہم اس پرانے ورثے سے تاریخی قطع تعلق کا اعلان کرتے ہیں اور جبر و استبداد کے دور سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو کر انصاف، تہذیب اور باہمی زندگی پر مبنی نئے دور کی صبح نو میں داخل ہو رہے ہیں"۔
الشرع نے مزید کہا کہ وہ عبوری انصاف کے اصول کے پابند ہیں تاکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں اور شامی عوام کے خلاف جرائم کرنے والوں کا احتساب یقینی بنایا جا سکے ... ساتھ ہی متاثرین کے حقوق اور عوام کے جاننے، پوچھ گچھ کرنے اور جواب دہی کے حق کی حفاظت بھی کی جا سکے۔ شامی صدر کا کہنا تھا کہ مفاہمت ریاست کے استحکام کی بنیاد ہے، ماضی کی خلاف ورزیوں کے نہ دہرانے کی ضمانت ہے اور شہری اور ریاست کے درمیان اعتماد سازی کا بنیادی ستون ہے۔
واضح رہے کہ پیر کی صبح سے ہی شام کے بڑے شہروں دمشق، حلب، ادلب، حماہ اور حمص کے عوامی چوکوں میں ہزاروں شہری جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ انہوں نے اپنے قومی پرچم بلند کیے اور نئی حکومت کے حق میں نعرے اور ترانے بلند کیے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔