اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی عہدیدار علی لاریجانی کا سیاسی سفر

سیاست میں آنے سے قبل طویل عرصے تک پاسداران انقلاب میں خدمات انجام دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ رات تہران پر ہونے والے حملوں میں ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور بسیج کمانڈر غلام رضا سلیمانی ہلاک ہو گئے ہیں۔

یسرائیل کاٹز نے ایک ویڈیو خطاب میں واضح کیا کہ علی لاریجانی ملک کے اصل کمانڈر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم ہر متبادل قیادت کو نشانہ بنائیں گے اور ہم ایرانی نظام کے قائدین کا پیچھا جاری رکھیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ان حملوں کے ذریعے ایران کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل رہا ہے۔

علی لاریجانی کون تھے؟

ستاسٹھ سالہ علی لاریجانی کا تعلق ایک ممتاز مذہبی خاندان سے تھا اور سیاست کے میدان میں قدم رکھنے سے قبل انہوں نے کئی سالوں تک پاسداران انقلاب میں خدمات انجام دی تھیں۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی ایک دہائی تک عدلیہ کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہے۔

علی لاریجانی ایران کے سیاسی اور سکیورٹی ڈھانچے کی سب سے نمایاں اور بااثر شخصیات میں سے ایک مانے جاتے تھے، بالخصوص پاسداران انقلاب کی قیادت میں ان کی ایک طویل تاریخ تھی۔ وہ ایران عراق جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کے چیف آف اسٹاف بھی رہے۔

تاہم نوے کی دہائی کے آخر میں لاریجانی برادران کرپشن کے مقدمات میں ملوث پائے گئے، جن میں زمینوں پر قبضے، رشوت ستانی اور اربوں تومان مالیت کے 63 ذاتی بینک اکاؤنٹس رکھنے کے الزامات شامل تھے۔

ان الزامات کے باوجود وہ سنہ 1992ء سے سنہ 2003ء تک وزیر ثقافت و اسلامی رہنمائی رہے اور پھر سنہ 1993ء سے سنہ 2004ء تک ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی قومی باڈی کے سربراہ رہے۔

لاریجانی کے لکھے گئے آخری خط کی تصویر جس میں انہوں نے بحری اہلکاروں کی ہلاکت پر تعزیت کی

سنہ 2005ء سے سنہ 2007ء کے درمیان محمود احمدی نژاد کی حکومت کے آغاز میں وہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری منتخب ہوئے اور ایرانی جوہری فائل کی ذمہ داری سنبھالی۔ تاہم بعد میں نژاد کے ساتھ اختلافات کی بنا پر مستعفی ہو گئے اور پھر 5 اگست سنہ 2025ء کو دوبارہ اسی عہدے پر واپس آئے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

علی لاریجانی سنہ 2008ءسے سنہ 2020ء تک پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے اور مختلف اوقات میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات کی قیادت کرتے رہے۔ وہ سنہ 2015 کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کے پیچھے موجود اہم شخصیات میں سے ایک تھے۔

سنہ 2021ء میں لاریجانی کو چین کے ساتھ اربوں ڈالر مالیت کے 25 سالہ اسٹریٹجک معاہدے پر مذاکرات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

علی لاریجانی نے دو بار صدارتی انتخاب لڑنے کی کوشش کی لیکن گارڈین کونسل نے ان کی نامزدگی مسترد کر دی۔

سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد انہوں نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کی حیثیت سے تہران کی سکیورٹی اور اسٹریٹجک پالیسیوں کی تشکیل اور نفاذ میں مرکزی کردار ادا کیا۔

سپریم لیڈر کی وصیت

یاد رہے کہ اعلیٰ ایرانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اپنی ہلاکت سے قبل اپنے قابل اعتماد ساتھی علی لاریجانی کو یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ ان کی اور ان کے بیٹے مجتبیٰ کی ہلاکت کی صورت میں ملک کے معاملات سنبھالیں۔ یہ انکشاف گذشتہ ہفتے اخبار نیویارک ٹائمز نے کیا تھا۔

چھ اعلیٰ ایرانی حکام، پاسداران انقلاب کے تین ارکان اور دو سابق سفارت کاروں نے اس وقت بتایا تھا کہ لاریجانی نے جنوری کے آغاز میں ملک میں احتجاجی لہر اور امریکی دھمکیوں کے شروع ہوتے ہی حساس سیاسی اور سکیورٹی فائلوں کا انتظام عملی طور پر سنبھال لیا تھا۔

اخبار نے مزید بتایا تھا کہ 67 سالہ لاریجانی جو ایک تجربہ کار سیاستدان اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر تھے، عملی طور پر ملکی امور چلا رہے تھے۔

ان حکام نے بتایا کہ خامنہ ای نے لاریجانی اور اپنے چند قریبی سیاسی و فوجی ساتھیوں کو سخت ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ کسی بھی امریکی یا اسرائیلی حملے کے سامنے اسلامی جمہوریہ کی بقا کو یقینی بنائیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں