ایران کا رافیل عسکری کمپلیکس پر حملہ ،اسرائیل کی جوابی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے ایران کی جانب سے دوبارہ میزائل داغے جانے کی تصدیق کی ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں آج سترہویں روز بھی جاری ہیں۔

’اے ایف پی‘کے مطابق شمالی اسرائیل میں سائرن بجنے اور ایرانی میزائلوں کی نشاندہی کے بعد القدس میں دور دراز سے ہونے والے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی فورسز نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کا سراغ لگا لیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ دفاعی نظام ان خطرات کو ناکام بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ڈرونز کے ذریعے اسرائیل کے رافیل عسکری کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے۔

اس کے برعکس اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ تہران کے گرد و نواح میں ایرانی نظام کے بنیادی ڈھانچے اور بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے ایران کے ساتھ مزید کم از کم 3 ہفتوں تک جنگ جاری رکھنے کے تفصیلی منصوبے تیار کر لیے ہیں۔

دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے اندر اہداف کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے تصدیق کی کہ گذشتہ رات ہونے والے حملوں میں ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور بسیج کمانڈر ہلاک ہو گئے ہیں۔

یسرائیل کاٹز نے ایک ویڈیو خطاب میں وضاحت کی کہ علی لاریجانی ملک کے اصل کمانڈر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہم ہر متبادل کو نشانہ بنائیں گے اور ہم ایرانی نظام کے قائدین کا پیچھا جاری رکھیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ایران کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل رہا ہے۔

3 ہفتے

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور فی الحال اس جنگ کا کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا۔

اس کے ساتھ ہی اہم ترین آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز اب بھی بڑی حد تک بند ہے کیونکہ امریکہ کے کئی اتحادیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس اہم گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے میں مدد کی درخواست مسترد کر دی ہے جس کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور افراط زر کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں