تہران پر اسرائیلی فضائی حملوں اور اعلیٰ فوجی و سیاسی قائدین کی ہلاکتوں کے تسلسل کے درمیان اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایرانی نظام کا تختہ صرف ایرانی عوام ہی الٹ سکتے ہیں۔
منگل کے روز اپنے تازہ بیانات میں انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک پہلے ہی ایران پر فتح حاصل کر چکا ہے اور ان کے نزدیک تہران اب ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسرائیل ایران کے خلاف جنگ تب تک جاری رکھے گا جب تک مشن مکمل نہیں ہو جاتا۔
مذاکرات سے انکار
لبنان کے حوالے سے انہوں نے ایک بار پھر لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر ہونے والے حملے بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لبنانی حکومت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین سے اسرائیل پر ہونے والے القسام بریگیڈز اور حزب اللہ کے حملوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
گذشتہ روز جدعون ساعر نے لبنانی فریق کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ جنگ دو مارچ سنہ 2024ء کو شروع ہوئی تھی۔ اس سے قبل گذشتہ ہفتے ایک لبنانی سرکاری ذریعے نے بتایا تھا کہ مذاکرات کی تجویز زیر غور ہے اور مذاکراتی وفد کی تشکیل کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی فوج نے ایرانی دارالحکومت پر بڑے پیمانے پر نئے حملوں کی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فوج نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان حملوں کا ہدف تہران میں سرکاری بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے تہران پر گذشتہ رات کیے گئے حملوں میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور باسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ جون کے اختتام تک جاری رہی تو مزید 45 ملین افراد شدید قحط کا شکار ہو سکتے ہیں جس سے دنیا بھر میں بھوک سے متاثرہ افراد کی تعداد تباہ کن حد تک پہنچ جائے گی۔ عالمی ادارہ خوراک کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکاؤ نے جنیوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ کا تنازع جون کے آخر تک جاری رہا تو قیمتوں میں اضافے کے باعث مزید 45 ملین لوگ شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔
عالمی برادری نے حال ہی میں ایک بار پھر اہم ترین آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات سے بھی خبردار کیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے واضح طور پر ایرانی نظام کے خاتمے کی کوششوں کا اعلان کر رکھا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آغاز میں اس حوالے سے جوش و خروش دکھایا تھا تاہم بعد میں وہ پیچھے ہٹ گئے تھے۔
دریں اثنا امریکی انٹیلی جنس رپورٹس نے تہران میں نظام کی طاقت میں نمایاں کمی کی تصدیق کی ہے لیکن جلد سقوط کے امکان کو مسترد کیا ہے۔
-
ایرانی تیل کی پیداوار اور برآمدات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں: اہلکار
ایران کی تیل کی پیداوار اور برآمدات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں، پارلیمانی توانائی ...
مشرق وسطی -
عراق کی ایران سے ابنائے ہرمز سے تیل کے ٹینکرز گزارنے کی درخواست
عراق کے وزیرِ تیل حیان عبد الغنی نے منگل کے روز تصدیق کی کہ ان کی حکومت ایران کے ...
مشرق وسطی -
عراق کے خلاف جنگ میں کردار ادا کیا ... ایرانی بسیج کے مقتول سربراہ کے متعلق معلومات
خاندانی ناموں کی مماثلت کے باوجود ان کا قاسم سلیمانی سے کوئی تعلق نہیں تھا
مشرق وسطی