برطانوی جنگی جہاز ڈریگن آبنائے ہرمز کی جانب روانہ، اہم مشن کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی جانب سے گذشتہ دنوں طیارہ بردار بحری جہاز شارل ڈیگول اور متعدد بحری بیڑے خطے میں بھیجنے کے بعد اب برطانوی وزارت دفاع نے بھی اعلان کیا ہے کہ ڈسٹرائر جنگی جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران سے متعلق جاری فوجی تناؤ کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ممکنہ کثیر القومی بحری مشن میں شمولیت اختیار کرنا ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ ’ایچ ایم ایس ڈریگن‘ کی یہ پیشگی تعیناتی اس محتاط منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد برطانیہ کی تیاریوں کو یقینی بنانا ہے۔ برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ قیادت میں قائم کثیر القومی اتحاد کے تحت اس کا مقصد حالات سازگار ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانا ہے۔

وزارت دفاع نے مزید وضاحت کی کہ اس ڈسٹرائر جہاز کی تعیناتی سے تجارتی جہاز رانی کے شعبے کا اعتماد بحال ہو گا اور جنگی کارروائیاں رکتے ہی بارودی سرنگیں ہٹانے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ یہ جہاز ٹائپ 45 کلاس کا حصہ ہے جو خطے میں پیشگی طور پر موجود رہے گا تاکہ برطانیہ اور فرانس کی زیر قیادت کسی بھی یورپی مشن میں فوری طور پر شامل ہو کر تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کو یقینی بنا سکے۔

آبنائے ہرمز کے بحران سے متعلق مشن

برطانیہ کی یہ نقل و حرکت آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے بحران کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی تصادم اور اس کے بعد ایرانی بندرگاہوں کے وسیع بحری محاصرے کے باعث یہ گزرگاہ عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے تجارتی جہازوں کی حفاظت اور جہاز رانی کی سکیورٹی کے لیے 'پروجیکٹ فرڈیم' کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا تھا جسے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ امریکہ نے ایران پر اس اہم گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھانے اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے جہاں سے عالمی تیل و گیس کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، تاہم تہران بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔

بڑھتا ہوا یورپی تعاون

لندن اور پیرس گذشتہ کئی ہفتوں سے خلیج میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک دفاعی اور خود مختار یورپی بحری قوت تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں، جس میں تباہ کن جہازوں، لڑاکا طیاروں اور بارودی سرنگیں صاف کرنے والے ڈرونز کی تعیناتی شامل ہے۔

اپریل سنہ 2026ء میں لندن میں منعقدہ دو روزہ اجلاس میں 44 سے زائد ممالک نے شرکت کی تھی جہاں فوجی منصوبہ سازوں نے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں کثیر القومی مشن کے عملی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ تقریباً 40 ممالک نے اس مشن میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتحال کو معمول پر لانا ہے۔

ڈریگن کی حربی صلاحیتیں

’ایچ ایم ایس ڈریگن‘ برطانوی بحریہ کے ان نمایاں تباہ کن جہازوں میں سے ایک ہے جو فضائی دفاع، میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ جہاز جدید ترین 'سی وائپر' دفاعی نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ریڈاروں سے لیس ہے۔ گذشتہ مارچ میں اسے مشرقی بحیرہ روم میں قبرص میں موجود برطانوی اڈوں کی حفاظت کے لیے بھیجا گیا تھا جہاں ایرانی ڈرون حملوں کا خدشہ تھا، جس کے بعد اس کی تکنیکی مرمت کی گئی۔

آبنائے ہرمز کی جانب اس جہاز کی دوبارہ تعیناتی یورپی ممالک کی اس تشویش کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے کی مسلسل بندش سے توانائی کی عالمی منڈیوں اور تجارت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، خاص طور پر جبکہ علاقائی کشیدگی اور بحری حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں