ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف تمام تر برتر پوزیشن رکھتے ہیں: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی حالیہ تجویز پر ایرانی جواب کا منتظر ہےوائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان اینا کیلی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعے میں امریکہ کا ہاتھ اوپر ہے اور وہ اسے مستقل طور پر ایٹمی عزائم سے دستبردار کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اینا کیلی نے ’سی این این‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تمام تر برتر پوزیشن اور پتے اپنے پاس رکھتے ہیں، جبکہ ان کی قومی سکیورٹی ٹیم ایران کے ایٹمی عزائم کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید زور دیا کہ آپریشن ’ایپک فیوری‘ کی زبردست کامیابی کے نتیجے میں امریکہ مزید مضبوط ہو رہا ہے جبکہ ایران دن بہ دن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

ایرانی معیشت کا محاصرہ

وائٹ ہاؤس نے کل جمعہ کی شام اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایرانی بندرگاہوں کا امریکی محاصرہ انتہائی کامیاب رہا ہے اور اس سے ایران کی معیشت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور اقتصادی دباؤ کے پیش نظر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جائزاتی رپورٹ کے مطابق تہران امریکی محاصرے کے دوران مزید 3 یا 4 ماہ تک مزاحمت کر سکتا ہے جس کے بعد اس کی معیشت کے ٹوٹنے کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے، بالخصوص جبکہ وہ 28 فروری سنہ 2026ء کو جنگ چھڑنے سے قبل ہی معاشی مسائل کا شکار تھا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی جانب سے اگلے چند گھنٹوں میں امریکی تجویز پر جواب موصول ہونا متوقع ہے، جس کا اعلان ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز کیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر گذشتہ دنوں کے دوران بارہا یہ انتباہ دے چکے ہیں کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو حملوں کا آپشن اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ فعال کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے، جسے انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کے باعث آغاز کے دو دن بعد ہی معطل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں