امریکی رویہ سفارتی عمل کو سبوتاژ کر رہا ہے:ایرانی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی پالیسی پر اپنی تنقید کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔ اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران عراقچی نے موقف اختیار کیا کہ امریکہ کا تباہ کن رویہ سفارتی راستے کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ آبنائے ہرمز کے گرد و نواح میں امریکی فوج کی حالیہ نقل و حرکت اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیے گئے متعدد اقدامات نے امریکی فریق کی نیت اور سفارتی عمل میں اس کی سنجیدگی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے ایسنا نے آج بروز ہفتہ 9 مئی سنہ 2026ء کو یہ تفصیلات رپورٹ کی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے گذشتہ روز اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ جب بھی کوئی سفارتی حل پیش کیا جاتا ہے امریکہ کسی لاپرواہ فوجی مہم جوئی کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ ان کا اشارہ ایران پر ہونے والے دو بڑے فوجی حملوں کی طرف تھا جو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران پیش آئے۔ پہلا حملہ واشنگٹن کے اتحادی اسرائیل کی جانب سے جون سنہ 2025ء میں کیا گیا جس سے 12 روزہ جنگ چھڑ گئی اور دوسرا حملہ فروری سنہ 2026ء کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر کیا۔

جنگ بندی کی سنگین ترین خلاف ورزی

ایرانی تنقید کا یہ سلسلہ جمعرات کی رات آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد سامنے آیا ہے جہاں فریقین ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ یہ جھڑپ 8 اپریل سنہ 2026ء سے نافذ العمل جنگ بندی کی اب تک کی سنگین ترین خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔

یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب توقع کی جا رہی ہے کہ تہران آج رات امریکی تجویز پر اپنا جواب جمع کرائے گا جس سے جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور بعد ازاں ایرانی جوہری فائل جیسے پیچیدہ مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دو دنوں کے دوران ایرانیوں کے ساتھ معاہدے کے قریب پہنچنے پر امید کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے پرسوں اس بات پر زور دیا کہ حالیہ جھڑپ کے باوجود جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

پاکستان جو دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اس نے بھی جنگ کے مستقل خاتمے کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کیا ہے تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی معاملات اب بھی حل طلب ہیں اور مذاکرات کا راستہ کٹھن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں