اسرائیل، ایران کے ساتھ ایسے معاہدے پر فکر مند ہے جس میں جوہری پروگرام ختم نہ ہو : ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر اختلافات کی خبروں کے بیچ... با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب نے واشنگٹن کو مطلع کر دیا ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو طویل نہیں ہونا چاہیے۔

ذرائع نے جمعے کے روز واضح کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی انتظامیہ کو بتا دیا ہے کہ "کوئی بھی ایسا معاہدہ جو ایران کے جوہری پروگرام کو ختم نہیں کرتا، وہ کافی نہیں ہوگا"۔

ذرائع نے یہ بھی اشارہ کیا کہ تل ابیب نے واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے ممکنہ راستوں پر تبادلہ خیال کیا ہے، جن میں ایرانی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی ذرائع نے پہلے بتایا تھا کہ جمعرات کی رات آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد سے اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔

یہ معلومات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ شام اعلان کیا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی تجویز پر ایرانی جواب آج رات موصول ہو جائے گا۔

امریکہ نے حال ہی میں ایک ترمیم شدہ تجویز پیش کی تھی جس کا مقصد ایک فریم ورک کے مسودے کے ذریعے محدود اور عارضی معاہدے تک پہنچنا ہے تاکہ لڑائی کو روکا جا سکے۔ با خبر ذرائع نے بتایا کہ نیا منصوبہ جامع امن معاہدے کے بجائے مختصر مدت کی مفاہمت کی یاد داشت پر مبنی ہے۔ یہ بات خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔

ذرائع نے مزید وضاحت کی کہ اس تجویز پر تین مراحل میں عمل درآمد کیا جائے گا : پہلا مرحلہ با ضابطہ طور پر جنگ کا خاتمہ، دوسرا آبنائے ہرمز کے بحران کا حل اور امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، اور پھر ایک وسیع تر معاہدے بشمول جوہری فائل پر مذاکرات کے لیے 30 دن کی مہلت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان اپریل کے آغاز میں اسلام آباد میں براہِ راست طویل مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا، تاہم اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس صورتحال نے ٹرمپ کو ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کرنے پر مجبور کیا، جبکہ تہران نے اہم ترین تجارتی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں